اسلامی تحریک مزاحمت ۔ حماس کے ترجمان فوزی برھوم کا کہنا ہے کہ پریفر منصوبہ دراصل فلسطینیوں کے حقوق، ان کے مقدس مقامات کو یہودیانے اور ان کی اراضی کو ہتھیانے کا صہیونی منصوبہ ہے۔
”مرکز اطلاعات فلسطین” کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فوزی برھوم نے کہا کہ رام اللہ اتھارٹی کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے راستے ڈھونڈنے کی وجہ سے ہی اسرائیل کو پریفر منصوبے پر پیش قدمی کی جرأت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی پارلیمان میں پہلی خواندگی کے لیے پیش کردہ یہ قانون ظالمانہ ہے اور امریکی تعاون سے بنایا گیا ہے جس کا مقدس فلسطینیوں کی اراضی کو ہتھیانا، وہاں پر یہودی آباد کاری کرکے اسے یہودی رنگ میں رنگنا ہے اور اسرائیل کو یہ جرأت فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی بحالی پر آمادگی کی وجہ سے ہوئی ہے۔
حماس کے ترجمان نے فلسطینی قوم کے تمام حلقوں سے اس خطرناک منصوبے کے خلاف دلیرانہ مزاحمت شروع کرنے اور اسرائیلی منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے فوری متحرک ہونے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی قوم قابض دشمن کے ساتھ عمومی تعلقات اور رابطوں کی بحالی کی تمام کوششوں کو روکنے کے لیے فلسطینی اتھارٹی پر دباؤ بڑھائیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
