فلسطینی انوائرمنٹل ایسوسی ایشن نے الزام عائد کیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی نے مغربی کنارے میں پانی کا بحران شدید کر دیا ہے، اتھارٹی مختلف شہروں اور ٹاؤنز میں پانی کی ترسیل میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔
فلسطینی ہیڈولوجین ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عبد الرحمن التمیمی نے بتایا کہ فلسطین کی گیارہ وزراء پر مشتمل واٹر کونسل جس کے سربراہ محمود عباس ہیں کو آٹھ سال قبل تشکیل دیا گیا تھا، اس کونسل میں واٹر اتھارٹی کے سیکرٹری اور سول سوسائٹی کے نمائندے بھی شامل ہیں، لیکن جب سے اسے بنایا گیا ہے اب تک اس کا صرف ایک اجلاس ہوا ہے۔
ایسوسی ایشن نے واٹر کونسل کے اجلاس اور پانی کے بحران پر ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ادھر فسطینی اتھارٹی اور مختلف ٹاؤنز کی انتظامیہ ایک دوسرے پر الزام عائد کر رہے ہیں، ان الزامات کی تحقیقات بھی لازم ہیں۔
ایسوسی ایشن نے کہا کہ پانی کی کمی کی سب سے بڑی وجہ سن 1967 میں پانی کے بڑے ذخائر پر اسرائیلی قبضہ ہے، اس مسئلے کے حل کے لیے سن 1993 میں کیے گئے اوسلو معاہدہ میں بھی کوئی شقیں نہیں رکھی گئیں۔
ایسوسی ایشن نے کہا کہ دو طرفہ الزامات بازی سے مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ اس کے لیے انتظامیہ کو سخت جدوجہد کرنا ہو گی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
