تحریک فتح کی جانب سے اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے تعاون اور مذاکرات کی پالیسی نے خود اسی تحریک کے رہنماؤں کو بدظن کردیا ہے۔
فتح کی مرکزی کمیٹی کے رکن محمود عالول کا کہنا ہے کہ فلسطینی عام شہری اس وقت انتہائی کرب میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔
عالول نے ٹیلی وژن پر نشر ہونے والےایک پروگرام میں کہا کہ مغربی کنارے کی فلسطینی قیادت اسرائیل کے ساتھ مذاکرات اور سکیورٹی تعاون کرکے قوم کا بڑا نقصان کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک فتح نے فلسطین کو مستقل ریاست تسلیم کروانے کی مہم شروع کر کے لوگوں کی توقعات میں حد سے زیادہ اضافہ کردیا ہے۔
انہوں نے تحریک فتح کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال اور اسکول تعمیر کرلینے کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اس علاقے پر آپ کی حکومت قائم ہوگئی ہے۔ اقوام متحدہ کی مستقل رکنیت کی درخواست دینے کے بعد تحریک فتح نے مغربی کنارے کی عوام میں آزاد فلسطینی ریاست کے حوالے سے بڑی امیدیں پیدا کردیں مگر اس ضمن میں کوئی ٹھوس اقدام نہ اٹھا سکی۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
