مغرب کے ایک سینئر تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ مغربی کنار ے کی فلسطینی اتھارٹی بتدریج زوال پذیر ہے۔ سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی فراہمی میں ناکامی اور دیگر شعبوں میں غیر تسلی بخش کارکردگی نے اتھارٹی کی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچایا ہے اور اگر یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہا تو فلسطینی اتھارٹی سیاسی افق سے غائب ہو جائیگی۔
اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مغربی اعلی عہدیدار نے اٹلی کی خبر رساں ایجنسی آکی کو بتایا کہ اتھارٹی اس وقت انتہائی موڑ پر کھڑی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری ملازمین اب صرف ہفتے میں تین روز کام کر رہے ہیں اس کی وجہ انکی تنخواہوں کی عدم ادائیگی ہے۔ بہت سے لوگ وسائل نہ ہونے کے باعث دوردراز سے اپنے کام کی جگہوں پر پہنچ نہ سکنے کی بنا پر گھروں میں رہنے پر ہی اکتفا کر لیتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ دراصل یہ سب کچھ اتھارٹی کا انہدام ہے۔ ملازمین کی ہڑتال کے باعث شہری صحت کی سہولیات سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔ عوا م کو سہولیات فراہم کرنے والے تمام سرکاری ادارے زوال کی جانب جا رہے ہیں، جو آخرکار اتھارٹی کے خاتمے پر منتج ہو گا۔ فلسطینی اتھارٹی بھلے مانے یا نہ مانے اس کا زوال قریب آتا جا رہا ہے۔
مغربی تجزیہ کار نے خبردار کیا کہ فلسطینی اتھارٹی نے بڑے پیمانے پر قرضے حاصل تو کرلیے ہیں تاہم اس کے پاس قرضوں کی واپسی کے ذرائع نہیں ہیں۔ اگرچہ اس کے پاس تھوڑے بہت فنڈز موجود بھی ہوں تاہم سال کے آخر تک یہ بحران پھر شدید ہو جائے گا۔
