اس سال کے آغاز سے فلسطینی اتھارٹی کی پولیس کے اہلکار فلسطینی مظاہرین کو گرفتار کرکے پولیس اسٹیشنز میں ظلم و تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں اب تک متعدد افراد پولیس کے تشدد سے زخمی ہوکر ہسپتال پہنچ چکے ہیں۔ لندن میں صدر مقام رکھنے والی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مشرقی وسطی اور شمالی افریقہ کی ایگزیکٹو باڈی کے ڈائریکٹر جوسٹورک کا کہنا ہے کہ ان حملوں کو دو ماہ گزر جانے اور چار رپورٹیں شائع ہونے کے باوجود اتھارٹی نے وحشیانہ تشدد می ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ فلسطینی اتھارٹی پر لازم ہے کہ وہ پولیس کی پر تشدد کارروائیوں کے آگے بند باندھے اور پر تشدد کارروائیوں میں ملوث پولیس افسران کو عدالت کے کٹہرے میں لائے۔
یاد رہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی پولیس کی تربیت کے لیے یورپی یونین کے زیر انتظام یوپول کوبس پروگرام کے تحت اتھارٹی کو 9.3 ملین یورو جاری کیے گئے تھے۔ اسی طرح مغربی کنارے کی سکیورٹی فورسز کی مدد کے لیے اقوام متحدہ اور دیگر ممالک بھی مدد فراہم کر چکے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں بتایا کہ جنوری 2009 تا جولائی 2012 تک انسانی حقوق کی کمیٹی، جو فلسطین میں انسانی حقوق کی نگرانی کرتی ہے، کو غیر انسانی سلوک اور بہیمانہ تشدد کی 584 شکایات موصول ہوئیں۔ ان شکایات کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کے اہلکار اپنے زیر حراست افراد کو طرح طرح کی تکالیف دیتے ہیں، نیند سے محروم رکھنا، تشدد کرنا، ضروریات زندگی سے محروم کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر غیر انسانی ہتھکنڈے اتھارٹی کے تفتیش کاروں کا معمول ہے۔ پورٹ کے مطابق سنہ 2012ء میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے 109 مقدمات رجسٹرڈ ہوئے جن میں سے 62 واقعات میں فلسطینی پولیس کے اہلکار ملوث تھے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
