مغربی کنارے کے شہر نابلس کی نجاح یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر عبد الستار قاسم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے یونیسکو کے وفد کو القدس کے دورے سے روکنا عرب دنیا اور بین الاقوامی تنظیموں اورعالمی برادری کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے اس جارحانہ اقدام پر فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے کوئی ردعمل نہ آنے ناقابل فہم ہے، جس سے ثابت ہوگیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی مسجد اقصی، القدس اوردیگر اسلامی مقدس مقامات کے تحفظ میں سنجیدہ نہیں ہے۔
سیاسیات کے استاذ نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کے مفادات اسرائیل کے ساتھ ملے ہوئے ہیں، اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم (UNESCO) کو القدس کے دورے سے روکنے پر فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان پہلے سے اتفاق ہو چکا تھا کیونکہ اسرائیل پہلے ہی بین الاقوامی تنظیموں اور ان کی قراردادوں کو تسلیم نہیں کرتا۔
اردن کے روزنامے ”السبیل” سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل عرب حکومتوں کے لیے نہیں بلکہ عرب قوم اور امت مسلمہ کے لیے خطرہ ہے۔ یہی قومیں اپنے نظاموں کو اس لیے تحفظ دے رہی ہیں کیونکہ حکومتیں طاقتور ہیں۔ اسی صورتحال میں عرب ممالک کی جانب سے ٹھوس رد عمل کی امید کس طرح کی جا سکتی ہے؟
مسجد اقصی پر یہودی آباد کاروں کے حملوں میں تیزی پر بات کرتے ہوئے فلسطینی ماہر سیاسیات کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے یہ اصول اپنا رکھا ہے کہ جب خطے کے عرب ممالک نرمی کا مظاہرہ کریں اور اپنے داخلی مسائل میں الجھے ہوئے ہوں تو قبلہ اول پر حملوں میں اضافہ کردیا جائے اور اگر ان ممالک میں اسرائیل کے خلاف غم وغصہ بڑھ جائے تو حملے کم کردیے جائیں۔
یاد رہے کہ اسرائیلی ریڈیو یہ انکشاف کر چکا تھا کہ اسرائیل اور اردن کے درمیان امریکی واسطے سے ایک معاہدہ طے پا گیا ہے جس میں یونیسکو میں اسرائیل کے خلاف ووٹنگ کے لیے آنے والی تمام قراردادوں کو نکال لیا جائے گا، اور صرف اس چیز کے بدلے میں ہی یونیسکو کے وفد کو القدس کی اولڈ میونسپلٹی کے آثار قدیمہ اور تاریخی ورثے کا جائزہ لینے کی اجازت دی جائے گی۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
