مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق شمالی فلسطین میں مقامی فلسطینی آبادی کے حقوق کے لیے سرگرم "تنظیم” کی جانب سے اسرائیل کے ایڈووکیٹ جنرل یہودا فینچائن کو ایک درخواست دی گئی جس میں ان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوج کے ہاتھوں مسام دار سیاہ رنگ کی ربڑ کی خطرناک گولیوں کے استعمال کی تحقیقات کرائیں۔
انسانی حقوق کی مندوب آن سوچیو کی جانب سے اسرائیلی پراسیکیوٹر جنرل کو ایک مکتوب ارسال کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ فوج اور پولیس فلسطینیوں کے خلاف مسام دار سیا ربڑ کی گولیاں استعمال کررہی ہے۔
یہ گولیاں وزن میں بھاری، زیادہ سخت اور لگنے میں نہایت خطرناک ہیں جن کے استعمال سے فلسطینیوں کی جانوں کو بھی خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ پولیس کے ہاتھوں فلسطینیوں پر اس نوعیت کے مہلک ہتھیاروں کا استعمال بین الاقوامی قانون کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔
انسانی حقوق کی خاتون مندوبہ کا کہنا ہے کہ صہیونی فوجیوں اور پولیس کی جانب سے ان گولیوں کا استعمال جولائی 2014ء کے بعد سے تواتر کے ساتھ اور اندھا دھند طریقے سے جاری ہے اور اس کا نشانہ بیت المقدس کے شہری خاص طور پر بن رہے ہیں۔
مکتوب میں مسام دار سیاہ گولیوں کے استعمال سے کئی فلسطینیوں کو آنے والے گہرے زخموں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں ایک احتجاجی جلوس پر ان گولیوں کے استعمال کے نتیجے میں 10 افراد زخمی ہوگئے تھے جن میں سے دو کی حالت خطرے میں تھی۔ یہ گولیاں زیادہ تر فلسطینیوں کے سروں میں ماری گئی تھیں اور کئی فلسطینیوں کے چہروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
