اسرائیل کے عبرانی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ وزارت خارنہ نے ان دنوں عالمی سطح پر اپنے سفارت خانوں کےذریعے ایک مہم شروع کی ہے۔ اس مہم کا مقصد فلسطینیوں کے اصولی مطالبات بالخصوص ان کے حق واپسی کی مساعی کو سرد خانے میں ڈالنے کی کوشش کرنا ہے۔
اخبار‘‘یدیعوت احرونوت’’ نے اپنی بدھ کی اشاعت میں شامل ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسرائیل اس نئی مہم کے ذریعے فلسطین سے جبری طور پر نکالے گئے فلسطینیوں اور ان یہودیوں کے درمیان ایک مساوات قائم کرنا چاہتا ہے جنہیں یہودی ایجنسیوں اور پے درپے حکومتوں کے ذریعے بڑی کوشش کے بعد لا کرفلسطین میں آباد کیا گیا۔ اخبار نے اپنی رپورٹ کا عنوان‘‘ میں یہودی پناہ گزین ہوں’’ لکھا ہے۔ جس سے یہ ظاہر کرنا ہے کہ فلسطین میں موجود یہودی آباد کاروں کو دوسرے ممالک میں نہیں لے جایا جائے گا اور دوسرے ممالک میں آباد فلسطینی پناہ گزینوں کی اپنے اصلی وطن فلسطین میں آباد کاری نہیں کی جائے گی۔ ان میں خاص طور پر وہ یہودی ہیں جو صہیونی حکومتوں کی مساعی کے ذریعے عرب ممالک سے فلسطین میں لائے گئے ہیں۔
اسرائیلی وزارت خارجہ کی ویب سائیٹ پر اس مہم کے بارے میں تین زبانوں عربی، انگریزی اور عبرانی میں مواد شائع کیا گیا ہے۔ ویب سائیٹ پر شائع اس تفصیلی مواد میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ عرب ممالک سے فلسطین میں آ کر آباد ہونے والے یہودی بھی اپنی املاک اور جائیدادیں وہیں چھوڑ آئے تھے۔ اب یہ یہودی اپنی املاک، زمینیں اور جائیدادیں واپس لینے کا مطالبہ نہیں کرتے ہیں۔ اسی طرح فلسطینیوں کو بھی اپنے علاقوں میں واپسی کا مطالبہ ترک کر دینا چاہیے۔
یہ مہم ایک ایسے وقت میں شروع کی گئی ہے جب حال ہی میں صہیونی نائب وزیرخارجہ ڈانی ایالون نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ فلسطینیوں کے حق واپسی کے مطالبے کو نہ صرف اسرائیل میں کوئی پذیرائی نہیں ملی ہے بلکہ پوری دنیا میں فلسطینیوں کا یہ مطالبہ نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
