رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں مقامی عرب شہریوں کے مکانات کی بلا جواز مسماری کے آپریشن میں غیرمعمولی اضافہ کیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے ایک ہفتے میں صہیونی سیکیورٹی فورسز نے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں فلسطینی شہریوں کے 63 مکانات بلڈوز کیے جس کے نتیجے میں 82 بچوں سمیت 132 افراد بے گھر ہوگئے۔ ایک ہی ہفتے میں اتنی بڑی تعداد کی مکانوں کی مسماری کا سنہ 2012 ء کے بعد نیا ریکارڈ ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق کی جانب سے جمعہ کے روز جاری رپورٹ میں فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مشرق وسطیٰ میں دیر پا قیام امن کی کوششوں کو تباہ کرنے کے مترادف قرار دیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال میں اب تک مجموعی طورپر فلسطینی شہریوں کے 356 مکانات مسمار کیے گئے۔ ان میں 81 وہ مکانات بھی شامل ہیں جو عالمی امدادی اداروں کے تعاون سے غرب اردن کے سیکٹر” D ” میں بنائے گئے تھے۔ سنہ 1994 ء میں طے پائے اوسلو معاہدے کے تحت اس سیکٹر کا 60 فی صد علاقہ اسرائیل کے زیرانتظام ہے۔ اسرائیل اپنے زیر انتظام علاقوں میں فلسطینیوں کو کسی قسم کی تعمیرات کی اجازت نہیں دے رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق مندوب رابرٹ بائبرکا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری ایک ایسے وقت میں جاری ہے جب دوسری جانب اسرائیل وسیع پیمانے پر یہودیوں کے لیے تعمیرات جاری رکھے ہوئے ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ یہودیوں کو آباد کرنے کے لیے فلسطینی شہریوں کی اراضی پرقبضے کا منصوبہ اپنے نتائج کے اعتبار سے نہایت خطرناک ہے۔ اس کے نتیجے میں فلسطینی علاقوں میں عرب شہریوں کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔ اسرائیل غرب اردن اور بیت المقدس میں ہزاروں کی تعداد میں یہودیوں کو بسانے کے تعمیراتی منصوبوں پرعمل پیرا ہے۔ یہ طرز عمل مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غرب اردن کے سات ہزار عرب دیہاتیوں کو وادی اردن کے مشرقی علاقوں کی طرف دھکیلنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے اور یہ دعویٰ کیا جا رہاہے کہ ان علاقوں میں فلسطینیوں کو سکونت اختیار کرنے کے بہتر مواقع فراہم کیے گئے ہیں لیکن اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اس اقدام کو "جبری ھجرت” قرار دیتی ہیں۔
اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی جانب سے جاری کردہ رپوٹس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی انتظامیہ نے صرف پچھلے ہفتے سوموار کے روز فلسطینیوں کے درجنوں شیلٹر اور عارضی مکانات مسمار کرڈالے جس کے نتیجے میں 49 بچوں سمیت 78 فلسطینی مکان کی چھت سے محروم ہوئے ہیں۔ سنہ 2012 ء کے بعد چوبیس گھنٹے میں اتنی بڑی تعداد میں فلسطینیوں کا بے گھرہونے کا ایک نیا ریکارڈ ہے۔ جس بنیادی ڈھانچے کو اسرائیل نے مسمار کیا ہے اس کی تعمیر میں یوری یونین کی جانب سے بھی مالی مدد فراہم کی گئی تھی۔
اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کہ بہبود کے ادارے”اونروا” کے چیئرمین فیلپی سائنچیر کا کہنا ہے کہ غرب اردن اور بیت المقدس میں بعض ایسے فلسطینی خاندان بھی ہیں جنہیں اسرائیل کی جانب سے پچھلے چار سال میں چار مرتبہ بے دخل کیا گیا ہے۔
