فلسطینی وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ کا کہنا ہے کہ قوم کی تحریک آزادی اب مختلف مراحل طے کر کے انقلابی تحریک بننے جا رہی ہے۔ اسرائیلی جیلوں سے رہائی پانے والے پچاس فلسطینی اسیران کی اجتماعی شادیوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے
انہوں نے کہا کہ اپنے اسیران کی رہائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
منگل کی شام غزہ میں اس تقریب میں گزشتہ برس اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کے بدلے رہائی پانے والے 1027 اسیران میں سے کچھ افراد کی شادی بھی انجام پائی۔ تقریب کا اہتمام فلسطینی اسیران کے تحفظ کی تنظیم ’’واعد‘‘ نے کیا تھا جس میں دو روز قبل غزہ پہنچنے والے عالمی امدادی قافلے ’’میلوں مسکراہٹ 8‘‘ کے رضا کار بھی شامل تھے۔
اسماعیل ھنیہ کا کہنا تھا کہ فلسطینی اسیران کی رہائی قریب آتی جا رہی ہے۔ ہم اپنے اسیران کو کسی صورت نہیں بھولیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دن اللہ کی نشانیوں میں سے ایک کھلی نشانی ہے جس میں اسرائیلی عقوبت خانوں میں قید کیے گئے اپنے بھائی شادی کے بندھن میں بندھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض اسیران اور غزہ کی پٹی کی آزادی کی صورت میں ان کے اہداف کا ایک حصہ حاصل ہو چکا ہے۔ چند روز قبل عرب ممالک کے دورے سے واپس آنے والے فلسطینی وزیر اعظم نے اس موقع پر واشگاف الفاظ میں کہا کہ فلسطینی تحریک اب ہجوم سے ترقی کر کے انقلاب بننے کے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے انکا کہنا تھا کہ عرب انقلابات کے تناظر میں اب فلسطین کی آزادی زیادہ دور نہیں۔

