فلسطینی عوام کی اکثریت نے اسرائیلی ویزے پرغیرملکی شخصیات کی بیت المقدس کے دورے پرآمد کی مخالفت کی ہے۔ رائے دہندگان کا کہنا ہے کہ صہیونی ریاست کے ویزے کے تحت بیت المقدس آنا صہیونی ریاست کے تعلقات کےقیام اور اسرائیل کوتسلیم کرنے کے مترادف ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کی عربی ویب سائیٹ پرگذشتہ ایک ہفتے کے دوران قارئین سے یہ سوال پوچھے گئے تھے کہ آیا وہ غیرملکی شخصیات کے اسرائیلی ویزے کے تحت فلسطین اور بیت المقدس آمد کی حمایت کرتے ہیں یا اس کی مخالفت کرے ہیں۔ اس پر86 فی صد رائے دہندگان نے اسرائیلی ویزے کے تحت بیت المقدس کے دورے کوصہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات کے قیام کے مترادف قراردیا۔ چار فی صد رائے دہندگان نے اس آپشن کی حمایت کی اسرائیلی ویزے کے تحت غیرملکی شخصیات کی آمد سے القدس کے شہریوں کی حمایت اور مدد کا باعث ہو گی۔
خیال رہے کہ مرکزاطلاعات فلسطین کے زیراہتمام یہ عوامی سروے ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب حال ہی میں یمن کے ایک سرکردہ عالم دین شیخ الحبیب علی الجفری نے اسرائیلی ویزے پرمسجد اقصیٰ کا دورہ کیا تھا۔ ان کے اس دورے فلسطینی اور عرب شہریوں کی جانب سے سخت مذمت کی گئی تھی۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

