دوسری جانب بیت المقدس میں دفاع قبلہ اوّل کے لیے سرگرم عوامی کونسل نے مبینہ طورپر یہودی انتہا پسندوں کی جانب سے ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو دی گئی دھمکیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ عوامی کونسل کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ کمپنیوں اور بسوں کے مالکان کو وہی عناصر سنگین نتائج کی دھمکیاں دے سکتے ہیں جو فلسطینیوں کو قبلہ اوّل سے دور رکھنے کی سازش کررہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق عوامی کونسل کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہودی آباد کاروں کی جانب سے ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو دھمکیاں نہیں دی گئیں بلکہ یہ دھمکیاں براہ فلسطینی نمازیوں کو دی گئی ہیں اور انہیں خوف زدہ کرنے کی مذموم کوشش کی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہودی شرپسندوں کی کارروائیوں اور دھمکیوں سے مرعوب اور خوف زدہ ہوکر فلسطینی شہری قبلہ اوّل سے اپنا تعلق نہیں توڑیں گے۔ فلسطینی قوم کو اس نوعیت کی دھمکیاں ماضی میں بھی دی جاتی رہی ہیں مگربیت المقدس اور اندرون فلسطین کے رہنے والوں نے قبلہ اوّل کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط سے مضبوط تر کیا ہے۔
بیان میں یہودی حکام کی جانب سے فلسطینی نمازیوں کو ہراساں کیے جانے کے واقعات کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی اور عالم اسلام سے مطالبہ کیا کہ وہ قبلہ اوّل کو یہودیوں کی ریشہ دوانیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
