اسرائیلی وزیرخاجہ آوی گیڈور لائبرمین نے کہا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ ان کی بات چیت صرف دو طرفہ سیکیورٹی اور اقتصادی امور پر ہو رہی ہے۔ فلسطینی ریاست کا معاملہ مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہے۔
اسرائیل کے ٹیلی ویژن 10 سے بات کرتے ہوئے مسٹر لائبرمین نے تسلیم کیا کہ ماضی میں فلسطینی انتظامیہ اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی بات چیت بے سود رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں سے سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون کا کوئی سمجھوتہ طے پا سکتا ہے لیکن کسی قسم کا سیاسی سمجھوتہ ناممکن ہے۔
مذاکرات کی بحالی کے لیے سیکڑوں فلسطینی اسیران کی جیلوں سے رہائی کے بارے میں لائبرمین نے کہا کہ "فلسطینی اسیران کی رہائی جذبہ خیرسگالی کا نتیجہ ہے۔ اس سلسلے میں بعض جماعتوں کی جانب سے مخالفت بھی سامنے آئی ہے تاہم انہوں نےاپنی جماعت”اسرائیل بیتنا’ کو رائے شمالی میں آزادانہ اور مرضی کی رائے استعمال کرنے کی آزادی دی ہے۔
فلسطینی علاقوں میں قائم یہودی کالونیوں کی مصنوعات کی یورپی یونین کی جانب سے سے پابندی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں مسٹر لائبیرمین کا کہنا تھا کہ”یورپی یونین کا فیصلہ افسوسناک ضرور ہے تاہم اس کے اسرائیل پر منفی اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ تل ابیب یورپی یونین سے فیصلہ تبدیل کرانے کے لیے تمام ممکنہ سفارتی ذرائع بھی استعمال کرے گا”۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
