برطانیہ میں اگلے ماہ جون میں ہونے والی صہیونی عسکری نمائش میں کئی یورپی ممالک حصہ لے رہے ہیں۔ ان میں یورپی ملک فرانس بھی سر فہرست ہوگا۔
میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک بڑی تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لندن عسکری نمائش میں شرکت کا بائیکاٹ کردے۔ خیال رہے کہ برطانیہ میں گیارہ سے تیرہ جون کے درمیان "یور اسٹوری نمائش برائے2012” منعقد ہوگئی جس میں کئی یورپی ممالک حصہ لیں گے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم کی جانب سے جاری ایک بیان میں صہیونی فوجی نمائش میں یورپی ممالک کی جانب سے شرکت کو انسانی حقوق اوراخلاقی اصول و مبادی کی سنگین خلاف ورزی سے تعبیر کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک طرف اسرائیل اپنے فوجی اسلحے اور جنگی سازو سامان کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں کے لیے استعمال کررہا ہے اور دوسری جانب یورپی ممالک اس کی مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی فوجی نمائش میں شرکت کے بھی خواہاں ہیں۔ یہ یورپی ممالک کی دوغلی پالیسی ہے جس سے دنیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مرتکب ریاستوں کو حوصلہ مل رہا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بالفعل ہم صہیونی فوج کی فلسطینیوں اور عربوں کےخلاف کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں۔ ہمیں یہ بات بھی قبول کرنی چاہیے کہ ہم یورپ یا کسی بھی دوسرے ملک کی میزبانی میں ہونے والی اسرائیلی اسلحہ کی نمائش کا بائیکاٹ کریں۔
انسانی حقوق گروپ نے دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ صہیونی فوج اور اسلحے کی نمائش کے فروغ میں ملوث ممالک کو اس نمائش میں شرکت سے روکیں۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ بات کس قدر باعث افسوس ہوگی کی ایک جانب صہیونی ریاست فلسطینیوں پر اپنا اسلحہ آزما رہی ہے اور دوسری جانب یورپ میں اس اسلحہ کی کھلے عام نمائش کی جائے گی۔ ستم یہ ہے کہ عالمی برادری بھی اس سارے ظلم پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

