فرانس کی ایک عدالت نے سنہ 2000ء میں غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی ایک دہشت گردانہ کارروائی میں کم سن فلسطینی محمد جمال الدرہ کی شہادت کیس کا فیصلہ کرتے ہوئے انتہا پسند یہودیوں کے تمام دعوے مسترد کردیے ہیں اور اسرائیل کو جمال الدرہ کی شہادت کا قصور واور قرار دیا ہے۔
عدالت کی جانب سے فرانسیسی ٹی وی”فرانس2″ پر نشر کی جانے والی اس ویڈیو کو درست قرار دیا گیا ہے جس میں جمال الدرہ کی شہادت کی تفصیلات بتائی گئی تھیں۔ جبکہ فرانسیسی ٹی وی کی رپورٹ کو غلط قرار دینے والی انتہا پسند صہیونی تنظیموں کو ٹی وی پرغلط الزام عائد کرنے کےجرم میں 7000 یورو جرمانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔
دوسری جانب فلسطینی شہرغزہ کی پٹی میں اسلامی تحریک مزاحمت ۔ حماس۔ کی حکومت نے فرانسیسی عدالت کے فیصلے کو سراہتے ہوئے اسے شہید الدرہ اور پوری فلسطینی قوم کی فتح قرار دیا ہے۔ غزہ حکومت کے ترجمان ایھاب غصین نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ "فرانسیسی عدالت کی جانب سے آنے والا فیصلہ شہید جمال الدرہ اور پوری قوم کی دو الگ الگ فتووحات اورصہیونی دشمن کی دو شکستیں ہیں”۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے پہلے جارحیت کا مظاہرہ کرتےہوئے نہتے اور کم سن فلسطینی جمال الدرہ کو شہید کیا پھر اس کا انکار کردیا۔ اس کے بعد ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کی شہادت کے بارے میں تیار کردہ فرانسیسی ٹی وی کی ویڈیو کو بھی مسترد کرنے کی کوشش کی۔ لیکن اسرائیل کے یہ دونوں جرائم کھل کر سامنے آگئے ہیں اور صہیونی حکومت اور اس کی انتہا پسند تنظیموں کو منہ کی کھانا پڑی ہے۔
ایھاب غصین نے فرانسیسی ٹی وی کی جانب سے الدرہ کے مقدمہ کی کئی سال تک مسلسل پیروی کرنے کو بھی سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ فرانس کی عدالت سے آنے والے فیصلے نے دنیا کے سامنے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ صہیونی حکومت فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم کی پردہ پوشی کے لیے ہرسطح پر جھوٹ اور دروغ گوئی کا سہارا لے کراپنے جرائم جاری رکھے ہوئے ہے۔
خیال رہے کہ کم سن فلسطینی جمال الدرہ کو ستمبر2000ء میں غزہ کی پٹی میں شاہراہ صلاح الدین پر اس وقت شہید کردیا گیا تھا جب وہ چلتے ہوئے صہیونی فوج سے بچنے کے لیے سڑک کنارے ایک خالی ڈرم کی اوٹ میں چھپ کر بیٹھ گئے تھے۔ جمال الدرہ اور اس کے والد کی یہ تصویربہت مشہور ہوئی تھی۔ صہیونی فوج سے بچنے کے لیے ڈرم کی اوٹ لینے والے نہتے باپ بیٹے پرقابض فوج نے گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں جمال الدرہ شہید ہوگئے۔ جارحیت کے اس واقعے کو ایک فلسطینی کیمرہ میں اور فرانس کے ایک نامہ نگار نے ریکارڈ کر لیا تھا۔
بعد ازاں یہ ویڈیو ریکارڈنگ فرانسیسی ٹی وی پرنشر کی گئی تو صہیونی انتہا پسند گروپوں نے فرانسیسی ٹی وی کے نامہ نگار کےخلاف ایک طوفان کھڑا کردیا۔ نتیجۃً ٹی وی کو شواہد کی بناء پرعدالت جانا پڑا۔ کئی سال مقدمہ چلنے کے بعد فرانسیسی عدالت نے جمال الدرہ کی شہادت کی ویڈیو درست قرار دی اور اس کے جواب میں یہودی انتہا پسندوں کے دعوے مسترد کرتے ہوئے انہیں ٹی وی پر بلا جواز الزام تراشی کے جرم میں سات ہزار یورو جرمانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
