فرانسیسی مواصلاتی کمپنی اورینچ اپنے اسرائیلی پارٹنر ‘ٹومارو’ کے ساتھ اشتراک ختم کرنے کا سوچ رہی ہے مگر اس بارے میں ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ سٹیفان رچرڈ نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے بھاری جرمانوں کے خطرات حائل ہونے کی وجہ سے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
اسرائیلی نائب وزیر اعظم سلوان شالوم نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا "رچرڈ نے مصر میں کانفرنس کے دوران اپنے بیان پر میرے سے معافی مانگی ہے اور مجھے بتایا ہے کہ وہ اسرائیل کے دوست ہیں۔”
شالوم نے مزید لکھا کہ "رچرڈ نے دعویٰ کیا کہ ان کے بیان کا غلط مطلب اخذ کرلیا گیا تھا اور انہوں نے صرف اپنے فیصلے کے معاشی پہلو کے حوالے سے بات کی تھی۔”
اسرائیلی نائب وزیر اعظم کا کہنا تھا "انہوں نے اپنے اور اپنی کمپنی کی جانب سے جاری بیانات پر معافی مانگی اور کہا کہ وہ تمام اقسام کے بائیکاٹ کی مذمت کرتے ہیں۔”
فرانسیسی مواصلاتی کمپنی کے سربراہ کی جانب سے یہ معافی فرانسیسی وزیر خارجہ لورئینٹ فیبیس کے بیان کے کچھ گھنٹوں بعد ہی سامنے آگئی۔ لورئینٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کا ملک اسرائیل کے خلاف کسی بھی قسم کے بائیکاٹ کے خلاف ہے۔
