فلسطین کے مقبوضہ عرب علاقوں میں قائم یہودی کالونیوں میں مواصلاتی شعبے میں کام کرنے والی ایک فرانسیسی فرم”اورینج” نے اپنی اسرائیلی پارٹنرکے ساتھ معاہدہ ختم کرتے ہوئے مزید کام جاری رکھنے سےانکار کردیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی حکومت نے مواصلاتی کمپنی کے اقدام پر سخت تشویش اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فرانسیسی مواصلاتی کمپنی”اورینج” گروپ نے گذشتہ روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ اسرائیل میں مزید کام نہیں کر رہی ہے۔ بیان میں واضح کیا گیاہے کہ کمپنی کے نئے فیصلے کے پیچھے کوئی سیاسی محرک نہیں ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کمپنی عالمی مارکیٹ میں اپنی ساکھ کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی موجودگی کو یقینی بنانے کی خواہاں ہے مگراسرائیل میں وہ مزید کام نہیں کرے گی۔ نیز یہ کہ اس فیصلے کے پیچھے کوئی سیاسی محرک نہیں ہے۔ لہٰذا اورینج کے فیصلے کو سیاسی فورم پر زیربحث نہ لایا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی کمپنی کی جانب سے الزام عاید کیا گیا ہے کہ فرانس کی اورینج فرم کی جانب سے اسرائیل میں کام ختم کرنے کا اعلان کمپنی کے سربراہ کی فلسطینیوں کے ساتھ حمایت اور ان کی طرف داری کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے فلسطینیوں کے ساتھ تعاون کے حوالے سے غیرملکی دبائو کے تحت یہ فیصلہ کیا ہے۔
اسرائیلی کمپنی "پارٹنر” کے چیئرمین اسحاق بنبنیسٹی کا کہنا ہے کہ "مجھے بہت بہت دکھ ہے کہ فرانسیسی کمپنی نے ہمارے ساتھ تعاون ختم کردیا۔ اورینج کے سربراہ نے جو کچھ کہا ہے وہ فلسطینیوں کی حاقومی قوتوں کے دبائو کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے فرانسیسی مواصلاتی فرم”اورینج” کے فیصلے کو مایوس کن قرار دیا ہے۔انہوں نے فرانسیسی حکومت پر زور دیا کہ وہ کمپنی کے فیصلے سے کھل کر انکار کریں کیونکہ ہمارے دوست ممالک کی فرموں کو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔
نیتن یاھو نے کہا کہ میں اپنے دوست ممالک سے کہتا ہوں کہ وہ اسرائیل کے بائیکاٹ کے لیے عالمی سطح پرجاری مہم کا حصہ بننے سےکھل کر انکار کردیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
