فلسطینی اسلامی تحریک مزاحمت”حماس” کے نوجوان رہ نما مشیر المصری نے کہا ہے کہ صدر محمود عباس کی جماعت الفتح اب بھی مصالحت کی ذمہ داریوں کے معاملےمیں فرار کی راہ اختیار کر رہی ہے۔
انہوں نے اسرائیلی جیلوں "عوفر” اور "مجد” صہیونی درندہ صفت فوجیوں کے ہاتھوں فلسطینی اسیران پر بہیمانہ تشدد صہیونی نسل پرستی کی بدترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عوفر اور دیگر جیلوں میں فلسطینی اسیران کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی اور حماقت کا جواب دیا جائے گا۔
حماس رہ نما مشیر المصری نےان خیالات کا اظہار قاہرہ میں مرکز اطلاعات فلسطین کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا۔انہوں نے کہا کہ عوفرجیل میں جس طرح فلسطینی اسیران پر اسرائیلی گماشتے مظالم ڈھا رہے ہیں وہ صہیونی فلسطین دشمنی کی اصل تصویر ہے جو صرف اب سامنے نہیں آئی بلکہ ماضی میں بھی اس طرح کی بدسلوکی کی ان گنت مثالیں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جنگی مجرم اسیران کے معاملے میں عالمی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ قیدیوں سے بنیادی ضرورت کی تمام تر سہولیات ان سے سلب کر لی گئی ہیں اور ان کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے۔ جو بین الاقوامی انسانی حقوق کے ضابطوں کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں حماس رہنما نے کہا کہ صہیونی حکومت نے ایک سال قبل ایک ڈیل کے تحت رہا کیے گئے فلسطینیوں کو دوبارہ گرفتار کر کے انہیں جیلوں میں ڈالنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جو صہیونی جنگی جرائم اور بدعہدی کی ایک دوسری بڑی مثال ہے۔ صہیونی حکومت دانستہ طورپر وفاءاحرار معاہدے کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہی ہے۔ بے گناہ فلسطینیوں کی گرفتاریاں اور ان پر جیلوں میں تشدد پرلے درجے کی حماقت ہے اور اسرائیل کو اس کے نتائج بھگتنا ہوںگے۔
فلسطینیوں کے درمیان مفاہمت کی مساعی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں مشیرالمصری کا کہنا تھا کہ حماس نے مفاہمت اور قومی اتحاد کی خاطر ہرممکن لچک کا مظاہرہ کر دیا ہے لیکن صدر محمود عباس کی جماعت الفتح اب بھی اپنی مفاہمتی ذمہ داریوں سے سبکدوشی کے بجائے ان سے راہ فرار اختیار کر رہی ہے۔
انہوں نے مصری حکومت پرزور دیا کہ وہ فتح کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے مطابق مفاہمت کا عمل آگے بڑھانے کے لیے فتح کی مرکزی قیادت پر دباؤ ڈالیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

