اسرائیل کےایک عبرانی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے مسٹر رولی کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی کی میں تعمیر کے لیے لائے گئےسامان کو بلیک مارکیٹ میں فروخت ہوتے دیکھاگیا ہے جبکہ دوسری طرف شہریوں کو اپنے مکانات کی تعمیرومرمت کے لیے وسائل نہیں ہیں۔ شہری ایک دوسری کی مدد اور اپنی مدد آپ کے تحت تعمیراتی کام کررہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ اوراسرائیل کے درمیان طویل جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ سے حماس کے مذاکرات نہیں ہو رہے ہیں تاہم انہوں نے فلسطین اور اسرائیل دونوں پر زور دیا کہ وہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کو مزید توسیع دینے کے بات چیت کریں۔
یو این عہدیدارنے غزہ کی پٹی میں جنگ سے تباہ حال مکانات اور دیگر عمارتوں کی تعمیر کا عمل آگے بڑھانے اور تعمیر کی سرگرمیاں تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
خیال رہے کہ اسرائیلی فوج نے پچھلے سال غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی جنگ کے دوران بمباری میں 16 ہزار مکانات تباہ کردیے تھے۔ ایک سال گذر جانے کے باوجود تعمیر نو کا عمل شروع نہیں ہوسکا ہے۔
