فلسطینی مہاجرین کی بحالی اور بہبود کے لیے قائم اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی”اونروا” نے غزہ کی پٹی پراسرائیل کی معاشی پابندیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔”اونروا” کے ڈائریکٹر جنرل آپریشن رابرٹ ٹیریز نے غزہ کی پٹی کے معاشی محاصرے کو فلسطینیوں پر اجتماعی سزا مسلط کرنے سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان پابندیوں کا کوئی اخلاقی اور قانونی جواز نہیں ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں مسٹر ٹیریز کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی کی معاشی ناکہ بندی کرکے وہاں کی ڈیڑھ ملین سے زائد آبادی کو اجتماعی سزا میں ڈال رکھا ہے۔ مفلوک الحال فلسطینی نہایت کسمپرسی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ پرعائد پابندیاں فوری اٹھانے کے لیے اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالیں۔ "اونروا” کے عہدیدار نے عالمی برادری سے غزہ کے مظلوم اور غریب شہریوں کی مدد کے لیے مختلف شعبوں میں امداد بڑھانے کی ضرورت پربھی زور دیا۔
نیوز کانفرنس میں رابرٹ ٹیریز نے اقوام متحدہ کی جانب سے جاری ایک رپورٹ بھی دکھائی اور کہا کہ اس رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی پراسرائیل کی عائد کردہ پابندیاں برقرار رہیں تو سنہ 2020ء تک غزہ کی پٹی رہائش اور زندگی گذارنے کے قابل نہیں رہے گا۔
غزہ کی پٹی میں توانائی کے مسئلے کے حل پربات کرتے ہوئے "اونروا” کے عہدیدار نے کہا کہ ریلیف ایجنسی اور جاپانی کمپنی "جائیکا” نے مشترکہ طورپر ایک پروجیکٹ پرکام شروع کیا ہے جس کا مقصد شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرکے غزہ کی پٹی میں توانائی کے بحران پرقابو پایا سکے۔
ایک سوال کے جواب میں رابرٹ ٹیریز کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی میں موجود مہاجر کیمپوں میں پناہ گزینوں کی تعداد سنہ 2020ء میں چارلاکھ تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جنگ سے تباہ حال شہر کی تعمیرنو اور انفرااسٹرکچر کی تعمیر سب سے بڑا چیلنج ہےکیوں کہ آج بھی غزہ میں ایسے خاندان موجود ہیں جو مکان کی چھت سے محروم ہیں۔ اس کے علاوہ معاشی پابندیوں کے باعث صحت، تعلیم اور دیگر تمام شعبہ ہائے زندگی بری طرح مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
