صحت کی عالمی تنظیم نے فلسطینی شہرغزہ کی پٹی میں اسرائیل کی گذشتہ چھ سال سے مسلط معاشی پابندیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے محصورین غزہ کےخلاف عائد تمام پابندیاں فوری اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عالمی ادارہ صحت کا ایک اہم اجلاس ہفتے کو مصری دارالحکومت قاہرہ میں ادارے کے ذیلی دفترمیں ہوا، جس میں مقبوضہ عرب علاقوں اور اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے زیرانتظام علاقوں میں صحت کی صورت حال پرغور کیا گیا۔ اس موقع پر عالمی ادارہ صحت کے اجلاس میں شریک اکثریتی اراکین نے غزہ کی معاشی ناکہ بندی کےخلاف ایک قرارداد کثرت رائے سے منظور کی۔ قرار داد کے حق میں پینسٹھ ممالک نے ووٹ دیا، چھ ممالک نے قرارداد کی مخالفت کی، اڑتالیس ممالک نے رائے شماری میں حصہ ہی نہیں جبکہ 72 ممالک کے مندوبین اجلاس سے غیرحاضر تھے۔
مذمتی قرارداد میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ غزہ کی پٹی پر گذشتہ چھ سال سے نافذ اقتصادی اور معاشی پابندیوں کو اٹھانے کا فوری اعلان کرے۔ محصور شہرمیں غذا، اودیہ اور دیگرضروری اشیاء کی فوری فراہمی کے لیے تمام بحری اور بری راستے کھول دے۔ قرار داد میں کہا گیا کہ غزہ کی پٹی میں صحت کی صورت حال دیگر عرب علاقوں کی نسبت زیادہ خطرناک ہے جہاں نہ تو فلسطینیوں کے پاس ادویات ہیں اور نہ ہی علاج کے لیے کوئی دیگر سہولت ہے۔ جبکہ اسرائیلی حکومت تمام مسائل کا علم ہونے کے باوجود غزہ کی پٹی می معاشی ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے۔ قرار داد میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وغزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے فلسطینی مریضوں کو دوسرے شہروں اور بیرون ملک علاج کے جانے کی اجازت فراہم کرے۔ غزہ کے شہریوں کو مغربی کنارے میں داخلے کا موقع دے اورغزہ اور دیگر شہروں کے درمیان ایمبو لینس سروسز کو بحال کرے۔
خیال رہے کہ غزہ کی پٹی دنیا کا سب سے گنجان آباد شہر ہے لیکن گذشتہ چھ سال سے یہ شہر کم نصیب صہیونی مظالم کا شکار ہے۔ اسرائیل نے شہر میں اپنی مخالف تنظیم حماس کی حکومت کی آڑ میں شہر کی ڈیڑ ملین آبادی کو ایک کھلی جیل میں بند کرکے رکھ دیا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

