فلسطین میں اسرائیلی مظالم کے تسلسل بالخصوص مقبوضہ علاقوں میں یہودی آباد کاری کےخلاف مصر اور دیگر ممالک میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔
جمعہ کے روز نماز جمعہ کے اجتماع کے بعد جامعہ الازھر کے زیراہتمام ایک احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا گیا۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق جمعہ کے روز نمازجمعہ کے بعد جامع الازھر کی جامع مسجد کے باہر ہزاروں افراد نے مسجد اقصیٰ پر یہودیوں کے حملوں، بیت المقدس کو یہودیانے کی سازشوں اورغزہ کی پٹی کی معاشی ناکہ بندی کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا گیا۔
مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پرعرب ممالک، مصری حکومت اور پوری مسلم امہ سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ فلسطینیوں کےخلاف اسرائیلی مظالم رکوانے لیے ٹھوس کوششیں شروع کریں۔
مظاہرین نے فلسطینی علاقوں سے فلسطینی باشندوں کے اسرائیل کےہاتھوں جبری انخلاء، ان کی املاک پر قبضے اور ریاستی دہشت گردی کے ذریعے ان کے حقوق کی پامالی کا سلسلہ بند کرانےکا مطالبہ کیا۔
مظاہرین نےعالم اسلام اور عرب ممالک سے مطالبہ کیا کہ جب تک اسرائیل فلسطینیوں کےخلاف مظالم کا سلسلہ بند کر کے ان کے حقوق تسلیم نہیں کرتا اسرائیل کے ساتھ ہر قسم کے سفارتی،تجارتی اور دیگرنوعیت کے تعلقات ختم کردیں، کیونکہ صہیونی ریاست کے ساتھ سفارتی تعلقات فلسطینیوں کےخلاف مظالم کے تسلسل میں معاونت کا باعث بنتے ہیں۔
ادھر ترکی میں بھی اسرائیلی جیل میں بھوک ہڑتالی قیدی شیخ خضرعدنان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ انقرہ میں نکالی گئی اس احتجاجی ریلی میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ شرکاء نے ہاتھوں میں کتبے اور فلسطینی پرچم اٹھا رکھے تھے اور انہوں نے صہیونی حکومت کےخلاف بھی شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ دو ماہ سے بھوک ہڑتالی مظلوم فلسطینی شیخ خضرعدنان کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

