مصرکے دارالحکومت قاہرہ میں ایک عرب سفارتی ذریعے نے اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کو دیوار سے لگانے اور غزہ کی پٹی کا گھیرا تنگ کرنے سے متعلق فلسطینی اتھارٹی اور صہیونی دشمن کی ملی بھگت کی ایک نئی سازش کا انکشاف کیا ہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی،اسرائیل،علاقائی اور بعض عالمی طاقتوں کا حماس کو تنہا کرنے اور غزہ کی پٹی میں جماعت کی حکومت کے خلاف گھیرا تنگ کرنے منصوبے پر اتفاق رائے ہوچکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حماس اور غزہ کے خلاف نئی اسکیم پر عمل درآمد کا آغاز صدر محمود عباس کے یک طرفہ صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے اعلان سے ہوگا۔ یہ انتخابات صرف مغربی کنارے کی حد تک ہوں گے غزہ کی پٹی کو اس میں شامل نہیں کیا جائے گا۔
قاہرہ میں متعین عرب سفارت کار نےعرب خبر رساں ایجنسی”قدس پریس” کو اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ خفیہ سازشی منصوبے میں حماس کوتنہا کرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے ساتھ جاری امن مذاکرات کو تحفظ فراہم کرنا بھی شامل ہے۔ اس منصوبے میں صدر محمود عباس کی جماعت الفتح کی مذاکرات کی حمایت پر عوامی تنقید کی روک تھام کرنا اور فتح کی عوامی مقبولیت میں کمی کو روکنا بھی اس کا حصہ ہے۔
سفارتی ذرائع نے حماس اورغزہ کی پٹی کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کی مزید تفصیلات بتائیں اور کہا کہ خفیہ منصوبے میں طے یہ پایا ہے کہ حماس کےخلاف سوشل، پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیا پر ایک بھرپور مہم چلائی جائے گی۔ فلسطینی عوام اور مخالف سیاسی دھڑوں کو حماس سے بدظن کرنے کے ساتھ ساتھ یہ ظاہر کیا جائے گا کہ غزہ کی پٹی میں حماس کی حکومت جرائم پیشہ افراد کو تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ ادھر مغربی کنارے میں حماس کے حامیوں کا عرصہ حیات تنگ کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا جائے گا تاکہ فلسطین کے اندر سے حماس کی حمایت میں اٹھنے والی آوازوں کو دبایا جاسکے۔
جب سفارتی ذرائع سے پوچھا گیا کہ آیا حماس کےخلاف نئی شر انگیز مہم کامیاب ہوسکے گی یا نہیں؟ تو سفارت کار نے کہا کہ اس طرح کی مہمات چلانا فلسطینی اتھارٹی بالخصوص صدرمحمود عباس کی جماعت ‘الفتح’ کی ایک بڑی حماقت ہے۔ انہیں یہ اسکیم نہ صرف ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے بلکہ اس کے برعکس نتائج سامنے آتے دکھائی دے رہے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
