فلسطین کے ایک بڑے شہر اور اسرائیلی قبضے سے آزاد غزہ شہر کی پٹی میں لاکھوں افراد نے اسرائیلی جیل میں بھوک ہڑتالی اسلامی جہاد کے کمانڈر خضرعدنان سے یکجہتی کے لیے احتجاجی جلوس نکالا۔
احتجاجی مظاہرے کی قیادت غزہ میں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے کی۔ ان کے علاوہ ریلی میں وزراء، اراکین پارلیمنٹ، تاجرتنظیموں کے نمائندوں اور ہزاروں عام شہریوں نے شرکت کی۔
مرکزاطلاعات فلسطین کےمطابق احتجاجی ریلی نماز جمعہ کے بعد جامع مسجد عمری الکبیر سے شروع ہوئی اور پیدل مارچ کرتے ہوئے انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ریڈ کراس کے دفتر کے باہر جا کر ختم ہوئی۔ ریلی میں شرکاء نے حماس، اسلامی جہاد کے پرچم اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر خضرعدنان کی رہائی کے لیے مطالبات درج تھے۔
ریلی سے حماس اور اسلامی جہاد کے رہ نماؤں نے خطابات میں شیخ خضرعدنان کو یقین دلایا کہ وہ ان کی رہائی اور تمام اسیران کے حقوق کے لیے ہرفوم پر جنگ لڑیں گے۔
اس موقع پر اسلامی جہاد کے رہ نما اور تنظیم کے سیاسی شعبے کے رکن الشیخ نافذ عزام نے خطاب کرتے ہوئے شیخ عدنان کے ساتھ ہونے والے بہیمانہ سلوک پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ باسٹھ دن سے بھوک ہڑتاک کرنے والے اسلامی جہاد کے رہ نما خضرعدنان اب موت وحیات کی کشمکش میں ہیں اور اسرائیل نے ان کی مشکلات ختم کرنے کے تمام عالمی مطالبات بھی مسترد کر دیے ہیں۔
انہوں نے فلسطینی عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس وقت تک سڑکوں پر نکل کر احتجاج جاری رکھیں جب تک قابض اسرائیلی حکومت عدنان کو اس کے تمام آئینی حقوق فراہم کرنے پر تیار نہیں ہو جاتی۔ شیخ عزام کا کہنا تھا کہ فلسطینی اسیران پوری قوم کے ہیرو ہیں اور ان کی رہائی کے لیے تمام ممکنہ وسائل کو بروئے کار لانا تمام فلسطینی سیاسی جماعتوں بلکہ عالم اسلام کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
اس موقع پر شیخ خضرعدنان کے والد کا ایک پیغام بھی شرکاء کو پڑھ کر سنایا گیا، جس میں انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے اسیر بیٹے سے صفد شہر کے ایک فوجی اسپتال میں ملنے گئے تھے۔ اس کے بیٹے کو انتہائی تشویشناک حالت میں بھی بیڑیوں میں جکڑ کر رکھا گیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس موقع پر انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ وہ بھوک ہڑتال ختم کر دے کیونکہ اس کا پیغام پوری دنیا تک پہنچ چکا تاہم بیٹے نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ وہ اس وقت تک بھوک ہڑتال جاری رکھے گا جب تک اس کے تمام بنیادی اور آئینی حقوق اسے مل نہیں جاتے۔
احتجاجی ریلی سے حماس کے اور فتح کے رہ نماؤں نے بھی خطاب کیا اور اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ شیخ عدنان کو فوری طور پر رہا کرے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی جیل میں زیرحراست اسلامی جہاد کے رہ نما شیخ خضرعدنان گذشتہ باسٹھ دن سےبھوک ہڑتال پر ہیں، انہیں نہایت تشویش ناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تاہم اسرائیلی فوج اور قابض حکومت ان کے خلاف اپنی ظالمانہ پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

