کونسل آف منسٹرز کے سیکریٹری جنرل عبدالسلام صیام کا کہنا ہے کہ غزہ محاصرے میں آسانی کے لئے مصری حکام محنت کررہے ہیں اور غزہ کو ضروریات زندگی فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
صیام نے ایک پریس ریلیز میں بتایا ہے کہ زیر زمین سرنگوں کو نشانہ بنانے کے بعد سے غزہ کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔ غزہ کو مصر سے ملانے والی یہ سرنگیں غزہ میں بنیادی ضروریات کا سامان لانے کے کام آتی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ غزہ کی سرنگوں کی مسماری کی وجہ سے شہر کے پاور پلانٹ، ٹرانسپورٹ، تعمیراتی سامان، ادویات اور طبی سامان کے ساتھ ساتھ برآمدات میں بھی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے جو کہ تقریبا کئی ملین ڈالر ہر دن کے حساب سے اٹھانا پڑ رہا ہے۔
صیام کا مزید کہنا تھا کہ اگر بین الاقوامی قوانین کے تحت متبادل کمرشل کراسنگز کام کررہی ہوتیں تو یہاں پر سرنگوں کی ضرورت محسوس ہی نہ ہوتی۔
انہوں نے بتایا کہ غزہ حکومت نے غزہ محاصرے میں نرمی کی خاطر کئی پارٹیوں سے رابطے کئے ہیں اور قطری حکومت نے پاور پلانٹ کی فنڈنگ کا وعدہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ یورپی ممالک معاشی منصوبوں کے لئے امداد فراہم کریں گے جبکہ ترکی نے ہسپتالوں اور بلدیات کے لئے امداد فراہم کرنے کا کہا ہے۔
صیام نے اسرائیلی کی جانب سے غزہ محاصرہ اٹھائے جانے کے مطالبے کی تردید کردی ہے اور کہا ہے کہ غزہ میں تجارتی اور تعمیراتی سامان لانے پر پابندی عائد ہے۔ کرم ابو سالم غزہ کی واحد کمرشل کراسنگ ہے اور اسے اکثر اوقات مختلف وجوہات کی بناء پر بند رکھا جاتا ہے۔
