قابض اسرائیلی فوج نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب فلسطینی شہرغزہ کی پٹی میں اسلامی تحریک مزاحمت حماس کی حکومت کے زیرانتظام وزارت دفاع کے دفاترپربمباری کی ہے جس کے نتیجے میں متعدد عمارتیں زمیں بوس ہوئی ہیں تاہم اس میں کسی قسم کے جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ جنوبی غزہ میں یہ ایک گھنٹے میں دوسرا حملہ تھا۔ قبل ازیں وزارت دفاع کے دفترسےملحقہ ابو جراد علاقے میں بھی صہیونی فوجیوں نے بمباری کی تھی۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کے مطابق اسرائیلی فوج کے ایف سولہ جنگی جہازوں نے رات گئے شہداء چوک کے قریب وزارت دفاع کے دفتر پربمباری کی۔ اسی دفتر کے قریب ہی سیکیورٹی فورسز کے بریگیڈ 3 کا بھی مرکز ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کے مطابق اسرائیلی فوج کے ایف سولہ جنگی جہازوں نے رات گئے شہداء چوک کے قریب وزارت دفاع کے دفتر پربمباری کی۔ اسی دفتر کے قریب ہی سیکیورٹی فورسز کے بریگیڈ 3 کا بھی مرکز ہے۔
میزائل حملے میں وزارت دفاع کی عمارت کو بری طرح نقصان پہنچا ہے تاہم کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں مل سکی۔ عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فوج کے جنگی طیارے رات بھرغزہ کی فضاء میں نچلی پروازیں کرتے رہے ہیں جس سے شہریوں میں سخت خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں وزارت دفاع کی عمارت کو پہلی مرتبہ حملے کا نشانہ بنایا ہے۔ اس سے قبل ہونے والے حملوں میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے مراکز کو ہدف بنایا جاتا تھا۔ وزارت دفاع کی عمارت پرحملہ ایک خطرناک اشارہ بھی ہوسکتا ہے کیونکہ اسرائیلی حکومت پچھلے کچھ عرصے سے غزہ کی پٹی پر کسی بڑے حملے کی دھمکیاں دیتی آ رہی ہے۔
