فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مغربی رام اللہ میں بعلین کے مقام پر یہودی آباد کاری اور نسلی دیوار کے خلاف نکالی گئی احتجاجی ریلی پر اسرائیلی فوج نے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پرامن اور نہتے مظاہرین پر صہیونی فورسز نے آنسوگیس کی شیلنگ کے ساتھ لاٹھی چارج کیا اور ان پر براہ راست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔
مقامی ذرائع کے مطابق قابض فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرتے ہوئے ان پر آنسوگیس کی شیلنگ کی تو گیس کے درجنوں گولے شہریوں کے گھروں میں جا لگے جس کے نتیجے میں گھروں میں موجود خواتین اور بچے دم گھٹنے سے متاثر ہوئے ہیں۔
اناطولیہ خبر رساں ایجنسی کے مطابق صہیونی فوج نے رام اللہ میں ایک کارروائی کے دوران دیوار فاصل کے خلاف احتجاجی مظاہرے منظم کرنے والی قومی کمیٹی کے رابطہ کار عبداللہ ابو رحمہ اور ایک غیرملکی سماجی کارکن جس کی شناخت نہیں کی جاسکی ہے کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
غزہ میں احتجاجی مظاہرے
ادھرجمعہ کی شام غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی مسلسل دراندازی اور جارحیت کے خلاف سیکڑوں شہری قابض اسرائیل کے خلاف نعرے لگاتے سڑکوں پرنکل آئے۔
وسطی غزہ میں البریج پناہ گزین کیمپ میں واقع ملٹری اسکول کے احاطے میں جمع فلسطینی شہریوں نے کتبے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر قابض فوج کی مسلس دراندازیوں کے خلاف شدید نعرے درج تھے۔
مقامی فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے پرامن فلسطینی مظاہرین پر گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں سے ایک شہری کی حالت نازک بیان کی جاتی ہے۔ اسے شہداء الاقصیٰ اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
