فلسطین کی سب سے بڑی سیاسی جماعت حماس کے سیاسی شعبے کے نائب صدر ڈاکٹر موسی ابو مرزوق کا کہنا ہے کہ فلسطینی انتخابات فلسطینی تنظیموں کے
مابین مفاہمت کا آغاز نہیں ہے بلکہ یہ تو تقسیم کے خاتمے، حقیقی مفاہمت کے حصول اور حالات کے معمول پر آنے کے بعد کا ایک لازمی کام ہے۔
موسی ابو مرزوق نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک کے اپنے پیج پر کہا کہ فلسطین میں قومی مفاہمت کے بغیر یا غزہ اور القدس کو نکال کر صرف مغربی کنارے میں انتخابات فلسطین کے درمیان تقسیم کو جائز قرار دینے کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے اگر صرف مغربی کنارے میں انتخابات کرائے گئے تو یہ القدس کو مغربی کنارے سے علیحدہ تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ غزہ کو ایک علیحدہ ریاست قرار دینا بھی شمار ہو گا۔
معروف فلسطینی رہنما نے مزید کہا کہ یہ انتخابات اسرائیل کو مغربی کنارے کی اکتالیس فیصد حصے کو سرکاری طور پر مذاکرات کے عمل سے علیحدہ کرنے اور مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل سے دستبردار ہونے کی دعوت ہوگی۔ مغربی کنارے کے وزیر اعظم سلام فیاض کی جانب سے اہل غزہ کو ووٹ کے بجائے سلیکشن کے ذریعے سے انتخابات میں شریک کرنے کی تجویز پر ابو مرزوق کا کہنا تھا کہ سلام فیاض کی حالیہ تجویز میں ان کی اسی پرانی رائے کے مطابق جس کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں انتخابات کے لیے رجسٹریشن کے لیے مفاہمت کے بجائے صدارتی حکم ہی کافی ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
