مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ کے مشرقی علاقے بیتونیا کی اسرائیلی جیل ’عوفر‘ کے دروازے پر ایک بار پھر فلسطینی مظاہرین کی قابض اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہو گئیں۔
یہ مظاہرین دو ماہ سے بھوک ہڑتال پر گئے فلسطینی اسیر قائد خضر عدنان کی رہائی کے لیےدھرنا دیے بیٹھے تھے۔
اسرائیلی فوج نے اپنے محبوب قائد کی رہائی کے لیے جیل کے باہر مظاہرہ کرنے والے فلسطینی شہریوں پر زہریلی گیس کے شیل برسانا شروع کر دیے۔ اسدوران ربڑ میں لپٹی دھاتی گولیاں بھی برسائی گئیں جس کی زد میں آ کر متعدد فلسطینی زخمی ہو گئے۔ صہیونی فورسز کے اہلکاروں نے پہلی مرتبہ پچیس پچیس دھاتی گولیوں کے راؤنڈ مظاہرین پر فائر کیے۔
جیل کے اندر بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی اسیر خضر عدنان کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے دو فلسطینی اراکین پارلیمان ڈاکٹر ابراھیم سالم اور احمد عطون بھی دھرنے میں شریک تھے۔ اس موقع پر رکن پارلیمان ابو سالم نے کہا کہ دوماہ تک بھوک ہڑتال جاری رکھنے والے خضرعدنان اس وقت عزم و ثبات اور جرأت و بہادری کا استعارہ بن چکے ہیں۔
ابو سالم کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے سیکڑوں فلسطینیوں کو انتظامی حراست میں رکھا ہوا ہے جن میں تیس کے لگ بھگ فلسطینی اراکین پارلیمان بھی شامل ہیں، یہ سب افراد بغیر کسی فرد جرم کے صہیونی عقوبت خانوں میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ زیر حراست اسیران کی صحت شدید متاثر ہے، مریض قیدیوں کو علاج کی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
اس موقع پر القدس سے بے دخل کیے جانے والے فلسطینی رکن پارلیمان احمد عطون نے بھی خطاب کیا انکا کہنا تھا کہ وہ شہرت حاصل کرنے کے لیےنہیں بلکہ انتظامی حراست میں پڑے اسیران کی مشکلات میں کمی کے لیے آئے ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ دو روز سے عوفر جیل کے باہر خضر عدنان کی رہائی کے لیے فلسطینی مظاہرین اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے مابین وقفے وقفےسے متعدد بار جھڑپیں ہو چکی ہیں۔

