غزہ پر محاصرے کے خلاف عوامی کمیٹی نے غزہ کے مشرق میں واقع منطار کراسنگ کو کھولنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ غزہ میں تعمیری سامان کی ترسیل جاری رہ سکے۔
کمیٹی نے کہا ہے کہ غزہ کے محصورین کو تعمیری سامان کی اشد ضرورت ہے اور اسرائیلی حکام نے سامان کی ترسیل پر پابندی لگا رکھی ہے۔ کمیٹی کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ غزہ کو 6000 ٹن سیمنٹ، 4000 ٹن آئرن اور 5000 ٹن بجری کی روز ضرورت ہے۔
بیان میں بتایا گیا کہ اسرائیلی حکام روزانہ صرف 800 ٹن بجری لانے کی اجازت دیتے ہیں اور اس کے علاوہ بین الاقوامی اداروں کی جانب سے جاری تعمیری پراجیکٹس کے لئے تعمیری سامان لانے کی اجازت دیتے ہیں۔
کمیٹی نے کہا ہے کہ غزہ میں تعمیری سامان کی قلت پر قابو پانے کے لئے سب سے بہتر عمل یہ ہوگا کہ منطار کراسنگ کو کھول دیا جائے اور تمام سامان کی ترسیل کی اجازت دے دی جائے۔ کمیٹی نے کہا کہ کراسنگ کے دوبارہ کھلنے سے اور تعمیری منصوبے جاری ہوسکیں گے جس سے ہزاروں روزگار پیدا ہوں گے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
