فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے مذاکرات بحالی کے تحت جاری کی گئی قیدیوں کی فہرست میں مقبوضہ 48ء کے کسی بھی قیدی کا نام شامل نہیں ہے۔
عرب رکن کنیسٹ ابراہیم سرسور نے کہا کہ مذاکرات بحالی کے نتیجے میں رہا ہونے والی قیدیوں میں مقبوضہ 48ء کے قیدیوں کا شامل نہ ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مفاہمتی عمل شروع ہونے سے پہلے ہی ناکام ہو گیا ہے۔
انہوں نے پریس میں جاری اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ فلسطینی مفاہمت کار مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے موزوں نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حالات کو دیکھتے ہوئے مذاکرات کو فوری طور پر ختم کر کے برابری کی بنیاد پر مذاکرات کیے جائیں اور تمام قیدیوں کو ایک ہی بار رہا کیا جائے
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
