تیونس کی انقلابی جماعت نہضہ کے سربراہ شیخ راشد الغنوشی نے زور دیا ہے کہ ان کی حالیہ دورہ مصر، اور حالیہ صدارتی انتخابات میں دستبردار ہونے والے امیدوار سے ملاقات کا مقصد مسئلہ فلسطین کے تمام پہلووں اور اسرائیل کی جانب سے اسے لاحق خطرات کا جائزہ لینا تھا۔
قاھرہ میں مصری انتخابات میں کامیاب ہونےوالی فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے اراکین سے ملاقات کے جلو میں ’’پی آئی سی‘‘ کےساتھ اپنی خصوصی گفتگو میں شیخ راشد الغنوشی کا کہنا تھا کہ الاخوان المسلمین کےسربراہ اور فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے اراکین سے ان کی ملاقاتوں میں سرفہرست مسئلہ ’’مسئلہ فلسطین‘‘ اور اس مسئلے کے حل کے لیے عرب بہار کا کردار رہا۔ انہوں نے کہا کہ قومی آزادی کے بعد عرب بہار کی اگلی منزل القدس اور مسجد اقصی کو صہیونی شکنجوں سے آزاد کرانا ہے۔
غنوشی نے پی آئی سی کے نمائندے کو بتایا کہ تیونس میں انقلابی تحریک شروع ہونے کے بعد تیونس کی قوم نے فلسطین کی آزادی کا نعرہ لگا دیا ہے۔ عرب ممالک میں برپا ہونے والے ان انقلابات نے اسرائیلی مظالم کےخلاف فلسطینی انتفاضہ سے اثر لیا ہے۔ خیال رہے کہ غنوشی نے قاھرہ میں اخوان کے مرشد ڈاکٹر محمد بدیع، فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی، النور پارٹی کے رہنماؤں اور سابق مصری صدارتی امیدوار حمدین صباحی سے ملاقاتیں کی ہیں۔ وہ دو روز مصر میں گزار کر پیر کی شام واپس روانہ ہو گئے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
