فلسطینی شہرغزہ کی پٹی میں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کی حکومت کے وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے کہا ہے کہ عرب بہاریہ کے مسئلہ فلسطین پر براہ راست اورمثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں
اور عرب انقلابات نے فلسطین کے تنازع کو عالمی اہمیت کا حامل مسئلہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عرب انقلابی تنظیموں کے جہاں ان ملکوں کی حکومتوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں وہیں ان کے فلسطینیوں کے ساتھ بھی گہرے روابط ہیں۔ مستقبل قریب اور بعید میں عرب ممالک میں برپا ہونے والے انقلاب آزادی فلسطین کے لیے کلیدی کردار کے حامل ہوں گے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق جمعہ کےروز نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی وزیراعظم نے کہا کہ عرب بہاریہ کا آغاز تیونس یا مصرسےنہیں بلکہ فلسطین میں سنہ 2006ء میں ہونے والے شفاف اور آزادانہ انتخابات سے ہواتھا۔ ان انتخابات میں فلسطینی عوام کو اپنی مرضی کے مطابق ووٹ ڈالنے کا موقع دیا گیا تو انہوں نے حماس کو اپنی نمائندہ جماعت کے طور پر منتخب کرکے انقلاب کی پہلی اینٹ رکھ دی تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ دنیا میں آزادی، انصاف اور جمہوریت کے علمبردار فلسطین میں ہونےوالے شفاف انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے کے بجائے فلسطین میں انتخابی دھاندلی کرانے کے لیے کوشاں ہیں۔
عرب بہاریہ کے مسئلہ فلسطین پرمرتب ہونے والے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ "عرب انقلابات نے فلسطین کے آس پاس موجود ملکوں کے قوت کے توازن کو تبدیل کیا ہے۔ عوامی حلقوں میں پہلے بھی فلسطینیوں کی حمایت کی کوئی کمی نہ تھی تاہم اب صورت حال بدل چکی ہے۔ اب نہ صرف عالم عرب کےعوام فلسطینیوں کی پشت پر ہیں بلکہ حکومتیں اور افواج بھی فلسطینیوں کی حمایت کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کی آزادی اور اس کی مقدسات کے تحفظ کے لیے فلسطینی عوام ہتھیار اٹھانے پر مجبور کیے گئے ہیں۔ دشمن ہمارے وطن پر ناجائز قبضہ ختم کردےاور تمام مقدسات کو بازیاب کرا دیا جائے تو ہمارا تنازعہ ختم ہو سکتا ہے، بصورت دیگر ہم مزاحمت کے تمام راستے اختیار کرتے رہیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عرب بہاریہ نے فلسطینیوں کے لیے عالمی سطح پر رابطوں کو آسان بنا دیا ہے، سنہ 2006ء کے فلسطینی پارلیمانی انتخابات میں حماس کی کامیابی کے بعد یہ امکان پیدا ہوا تھا کہ اب حماس کو عالمی سطح پر رابطوں میں پذیرائی ملے گی تاہم اسرائیل اور اسکی ہم خیال طاقتوں نے حماس کے لیے عالمی تعلقات کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جس کے باعث حماس کو عالمی رابطہ کاری میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن عرب بہاریہ نے فلسطینیوں کی یہ مشکل آسان بنا دی ہے۔ غزہ کی معاشی ناکہ بندی اب ایک بین الاقوامی موضوع بن چکا ہے۔ دنیا بھر میں اس موضوع پر سیمینار اورکانفرنسیسں منعقد کی جاتی ہیں۔
اسماعیل ھنیہ کہہ رہے تھے کہ عرب بہاریہ نے ایک مثبت اثر یہ ڈالا کہ عرب ممالک کی انقلابی قوتوں کے خود ان ملکوں کی حکومتوں کےساتھ گہرے اور مثبت تعلقات قائم ہوئے، یوں ان انقلابی تنظیموں اور عرب حکومتوں نے فلسطینیوں کے ساتھ اپنے رابطے مزید مضبوط کیے ہیں۔ یہ عرب بہاریہ کے مثبت اثرات ہیں کہ فرانس جیسے ملک نے بھی فلسطینی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر عزیز دویک کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

