اسرائیلی ائیر فورس کے سربراہ کرنل حجائی ٹوپولنسکی کا کہنا ہے کہ عرب ممالک میں برپا ہونے والے انقلابات اور فلسطینی مزاحمت کاروں کے راکٹ حملے،
جنگی طریقہ کار میں تبدیلی اور اسرائیل کی جانب سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی یہودی ریاست کے لیے حقیقی خطرے کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ انہوں نے آٹھویں قومی امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو درپیش حقیقی چیلنجز میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب ہمیں بیک وقت مختلف جہات سے خطرات لاحق ہیں، امکانات، خطرات اور محاذ کے اعتبار سے خطرات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگی طریقہ کار بدلتے جا رہے ہیں۔
ٹوپولنسکی کے مطابق مشرق وسطی میں آنے والی تبدیلیاں تاریخی ہیں ان کی وجہ سے اسٹریٹجک تبدیلیاں رونما ہونگی، ان تبدیلیوں میں خطرات بھی ہیں اور امکانات بھی۔ تاہم اسرائیل کے لیے عرب انقلابات کے خطرات زیادہ واضح ہیں۔ ہمارا دشمن اب قبضہ کرنے کی جنگ سے تباہی پھیلانے کی جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ جنگ کی حالت بدلتی جارہی ہے۔ اب جنگ کسی ملک پر قبضہ کرنے سے نہیں بلکہ اس ملک پر ہزاروں راکٹ برسا کر لڑی جا رہی ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر داغے جانے والے راکٹ حملوں کو اسرائیل کا بڑا داخلی چیلنج قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس شعبے میں ہمارے دشمن کی صلاحیتوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ یہ میزائل اور راکٹ اب صرف ممالک کے پاس ہی نہیں بلکہ دہشت گرد تنظیموں کے پاس بھی ہیں جو اسرائیل کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ گزشتہ بیس سالوں میں ترقی پانے والے یہ میزائل اس وقت اسرائیلی فوج کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہیں۔ انہوں نے بات جاری رکھی اور کہا کہ گزشتہ چند سالوں میں ہمارے دشمن نے ڈرامائی انداز میں ترقی کی ہے۔ دشمن کی فضائی صلاحیتوں میں بے پناہ اضافہ اب ہمارے لیے خطرہ بن یا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

