اسرائیل کے عبرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں سرگرم فلسطینی اتھارٹی کی پولیس نے سنہ 1948ء کے مقبوضہ علاقوں میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے صہیونی تنصیبات پر دو فدائی حملے ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے مقرب خیال کیےجانے والے عبرانی نیوز ویب پورٹل” وللا” نے اپنی رپورٹ میں فلسطینی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اتھارٹی کی ماتحت پولیس نے گذشہ ہفتے مقبوضہ فلسطین سے کچھ مزاحمت کاروں کو حراست میں لیا ہے جو اسرائیل کے اندر فدائی حملوں کی منصوبہ بندی کر رہےتھے۔ ذرائع کے مطابق حراست میں لیے گئے ملزمان پراسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے ساتھ تعلق کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔
رپورٹ کےمطابق فلسطینی اتھارٹی کے سیکیورٹی اداروں نے حماس کے زیرانتظام کام کرنے والے دو عسکری گروہوں کو بھی پکڑا ہے۔ ان میں سے ایک گروپ نے اسرائیلی مفادات پرحملوں کے لیے بارود سے بھری ایک کار الخلیل شہر میں تیار کرلی تھی جبکہ دوسرے گروہ کو بیت لحم میں گرفتارکیا گیا جس نے ایک طاقتور بارودی سرنگ کے ذریعے اسرائیل کے اندر دھماکوں کا منصوبہ بنایا تھا۔ تاہم فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے اس دعوے کی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
