مغربی کنارے کی فلسطینی اتھارٹی کی انٹیلی جنس ایجنسی نے بدھ کے روز علی الصبح رکن پارلیمان محمد ابو جحیشہ کے بیٹے محمد مطلق ابو جحیشہ کو گرفتار کر لیا، محمد ابو جحیشہ پہلے ہی اسرائیل کے ہاتھوں پابند سلاسل ہیں۔
سیاسی اختلاف کی پاداش میں گرفتار کیے گئے معاذ ابو جحیشہ کے بھائی نے بتایا کہ فلسطینی اتھارٹی کی پولیس اور خفیہ ادارے کی گاڑیوں میں سوار اہلکاروں نے معاذ کی کار کو روکا اور انہیں گرفتار کر کے الخلیل میں موجود خفیہ ایجنسی کے تفتیشی مرکز میں منتقل کر دیا۔
اتھارٹی کی نام نہاد پری وینٹو فورسز اور خفیہ ایجنسی اسسے قبل متعدد مرتبہ معاذ کو پوچھ گچھ کے لیے تفتیشی مرکز میں طلب کر چکی تھیں۔ اتھارٹیاہلکاروں نے ان کی گرفتاری کے لیے اذنا کے داخلی راستوں پر متعدد چیک پوسٹیں کررکھی تھیں۔
ادھر اتھارٹی کے اہلکاروں نے فلسطینی رہنما ماھر شلالدہ کو بھی تفتیش کے لیے طلب کیا ہے، شلالدہ اس سے قبل متعدد مرتبہ اسرائیلی فوج اور فلسطینی اتھارٹی کی فورسز کے ہاتھوں گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ اتھارٹی اب تک انہیں چار مرتبہ تفتیش کے لیے طلب کر چکی ہے، معاذ ابو جحیشہ کی گرفتاری کے بعد استاد ماھر شلالدہ کی گرفتاری کے خدشات کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے۔
ادھر ابراھیم حلایقہ نامی اٹھارہ سالہ ایک فلسطینی نوجوان کے والد نے بتایا کہ فلسطینی اتھارٹی نے ان کے بیٹے کو بھی تفتیش کے لیے طلب کر لیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ علاء موسی کو کچھ ماہ قبل ہی فلسطینی اتھارٹی نے رہا کیا ہے۔ اور دوران حراست ڈھائے جانے والے مظالم کے سبب وہ اب تک شدید بیمار ہیں۔

