مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ہفتے کے روز عباس ملیشیا کے ایک درجن اہلکارنے رام اللہ میں معتصم ایمن زلوم اور اس کے کزن سعد رائد زلوم کو گرفتار کرنے کے لیے ان کے گھروں پر چھاپہ مارا مگر اس وقت دونوں بچے گھر پرموجود نہیں تھے جس کی بناء پران کی گرفتاری تو عمل میں نہیں لائی جاسکی البتہ پولیس نے ان کے وارنٹ گرفتاری ان کے اہل خانہ کو دکھائے اور حکم دیا کہ دونوں بچے فی الفور خود کو حکام کے حوالے کردیں۔
بچوں کے ایک قریب عزیز مصعب زلوم نے مرکزاطلاعات فلسطین کو بتایا کہ عباس ملیشیا کی جانب سے دو بچوں کے وارنٹ گرفتاری تو جاری کیے گئے ہیں مگر اہل خانہ کے مسلسل استفسار کے باوجود اس کی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔ دونوں بچوں کی عمریں چودہ اور پندرہ سال کےدرمیان بتائی جاتی ہیں۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے عباس کی طرف سے کم عمربچوں کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ جو کام اس سے قبل اسرائیلی فوج فلسطینیوں کے ساتھ کررہی تھی اب عباس ملیشیا نے بھی اختیار کرلیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
