اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین "اونروا” نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے وسط سے عرب شہریوں کو جبری طورپر اریحا کی طرف بے دخل کرنے کے اسرائیلی اقدامات پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق "اونروا” کے ہائی کمیشنر ‘بیر کراھین بول’ نے اتوار کے روز بیت المقدس میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل جبرا مقبوضہ مغربی کنارے اور فلسطین کے دوسرے علاقوں سے عرب دیہاتیوں کو ان کے آبائی علاقوں سے محروم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور ان کی املاک پر قبضے چھوتے جنیوا معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ اسرائیل فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کا سلسلہ بند کرے ورنہ اس کے نتیجے میں مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل میں بھی رکاوٹیں پیدا ہوں گی۔
یو این عہدیدار کا کہنا تھا کہ اسرائیلی قابض انتطامیہ مغربی کنارے کے وسطی علاقوں سے بڑی تعداد میں فلسطینی آبادی کو جنوبی شہروں کی طرف دھکیل کر ان مقامات پر مزید یہودی آباد کاری کرنا چاہتی ہے۔ مسئلہ فلسطین کے حل میں دلچسپی رکھنے والے ممالک اسرائیل کی اس ظالمانہ پالیسی کے خلاف ٹھوس موقف اختیار کریں۔
خیال رہے کہ اسرائیلی حکومت نے رواں سال اپریل میں وسطی مغربی کنارے کے درجنوں دیہات خالی کرانے اور انہیں اریحا سمیت فلسطین کے دوسرے علاقوں میں آباد کرنے کے ایک منصوبے کی منظوری دی تھی۔ اس منصوبے پر اب عمل درآمد کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وسطی غرب اردن سے فلسطینی شہریوں کو نویعمہ الجبل اور الفصائل جیسے دور افتادہ اور بنیادی سہولیات سے محروم علاقوں میں بے دخل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
