فلسطینی وزیر اسیران عطااللہ ابو سبح کا کہنا ہے تیونس میں اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی اسیران کے حقوق اور ان کی آزادی کے لیے عالمی اسیران کانفرنس کے انعقاد نے فلسطینیوں کی خاطر تیونس کےعوام کی جانب سے قربانی پیش کرنے کے بے تحاشہ جذبے کا اظہار ہوتا ہے۔
فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے لیے تیونس کی جانب سے عظیم الشان کانفرنس سے ظاہر ہوگیا کہ تیونس کی حکومت اور عوام فلسطینی اسیران کے معاملے پر کس قدر سنجیدہ ہیں اور اس ضمن میں اپنی قومی ذاری ادا کرنے کے لیے بے چین ہیں۔
ابو سبح نے واضح کیا کہ تیونسی دارالحکومت کہ ڈاکٹر مرزوقی نےاس کانفرنس میں فلسطینیوں کے لیے اپنے اسیران کی رہائی کے لیے لائحہ عمل دیدیا ہے۔ جس کے مطابق سب سے پہلے فلسطینیوں کو قید کرنے کے لیے اسرائیل کے جرم کی تشہیر کی جائیگی اور اسے مجرم قرار دیا جائے گا، اس کے بعد فلسطینیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنے اور انہیں اذیت تکلیف سے دوچار کرنے کی شدید مذمت کی جائیگی اور اس ضمن میں تمام عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے روابط قائم کیے جائینگے، تیسرے اور آخری مرحلے میں ان اسیران کو رہا کروایا جائیگا۔
وزیر کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر مرزوقی کی صدارت میں تیونس کے فلسطینیوں کے ساتھ استوار ہونے والے تعلقات مستقبل میں بھی مضبوط رہینگے۔ اسیران کے معاملے پر دونوں ملکوں کو مزید قریب آنے کا موقع ملا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس کانفرنس میں عالمی شخصیات نے شرکت کی ہے جس میں عالمی پارلیمان کے اسییکر، تیونس کے اسپیکر، فرانس، برطانیہ اور امریکا میں سرگرم انسانی حقوق کی تنظیموں سے تعلق رکھنے والی شخصیتات نے شرکت کی ہے۔ اس کانفرنس کے فلسطینی اسیران کے معاملے پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہونگے۔
کانفرنس میں شریک افراد نے فلسطینی جھنڈے اٹھا رکھتے تھے، شرکاء نے بینرز اٹھا رکھے تھے جس میں مسئلہ فلسطین کو عرب اور اسلامی دنیا کا مرکزی مسئلہ قرار دیا گیا تھا، اس موقع پر نوجوانوں نے شدید نعرے بازی بھی کی۔ ’’خیبر خیبر یا یھود جیش محمد سوف یعود‘‘ اور ’’قوم اپنے اسیران کی رہائی چاہتی ہے‘‘ جیسے متعدد اسرائیل مخالف نعرے لگائے جاتے رہے۔
تیونس کے صدر نے اپنے خطاب میں تیونس کی جانب سے 1948ء میں فلسطین پر اسرائیلی قبضے سے لیکر اب تک فلسطینی قوم کے ساتھ تیونس کےعوام کی محبت پر روشنی ڈالی، انہوں نے کہا کہ 1982 میں لبنان سے نکلنے کے بعد فلسطینیوں کے انقلاب اور 1985 میں حمام شط پر حملے کے دوران فلسطینیوں کے ساتھ تیونسی شہریوں کی شہادت اور دیگر ہر اہم معاملے میں تیونس کے عوام کی جانب سے فلسطینیوں کی بھرپور مدد ونصرت کی گئی۔
تیونس کے صدر کا کہنا تھا فلسطین ہر فلسطینی کے دل میں آباد ہے۔ فلسطین کی آزادی تک تیونس کے عوام فلسطینیوں کا بھرپور ساتھ دیتے رہینگے۔ انہوں نے کہا کہ تیونس ہر فلسطینی کے لیے کھلا ہے، فلسطینی تیونس کو اپنا دوسرا وطن سمجھیں۔
ذرائع نے بتایا کہ اس موقع پر کانفرنس کے منتظمین نے تیونس کے صدر کی شرکت پر ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
