رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے جنوبی فلسطین کے سنہ 1948 ء کے علاقے جزیرہ نما النقب میں واقع ’’الرخمہ‘‘ قصبے میں واقع جامع مسجد کا محاصرہ کیا اور بلڈوزروں کے ذریعے مسجد شہید کردی۔
عرب فلسطینی دیہات کی مقامی کونسل کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ الرخمہ کالونی میں واقع مسجد کی شہادت سے قبل جمعرات کو اسرائیلی فوجیوں نے پوری کالونی کا محاصرہ کیا اور اس کےتمام داخلی اور خارجی راستے بند کردیے گئے۔ بعد ازاں صہیونی فوجیوں نے جامع مسجد کو شہید کرنے کے لیے بلڈروزروں کے ذریعے اس پر چڑھائی کردی۔
مقامی فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے کہ جامع مسجد الرخمہ کو ایک ماہ میں دوسری مرتبہ شہید کیا گیا ہے۔ رواں ماہ 6 جنوری کو بھی صہیونی فوجیوں نے بلڈروزروں کی مدد سے مسجد شہید کردی تھی جس پرفلسطینی شہریوں نے احتجاج کے بعد مسجد دوبارہ تعمیر کرنا شروع کردی تھی۔ فلسطینی شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ایک ماہ سے کم وقت میں مسجد کی ایک منزل مکمل کرلی تھی۔
دوسری جانب اسرائیلی پارلیمنٹ کے عرب رکن طلب ابو عرار نے مسجد کی شہادت کو اسرائیل کی مذہبی دہشت گردی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینی مقدسات پر اسرائیلی فوج کے اس نوعیت کے حملے مسلمانوں اور فلسطینیوں کے خلاف صہیونی نفرت کا واضح ثبوت ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ابو عرار کا کہنا تھا کہ مقبوضہ عرب شہروں میں رہنے والے فلسطینیوں کو وہاں سے جبرا بے دخل کرنے کے لیے مساجد کو شہید کیا جا رہا ہے، مگر عرب شہری صہیونی ریاست کی مذہبی غنڈہ گردی کو کسی صورت میں قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے مسجد کی شہادت کو نہایت غیرذمہ دارانہ قرار دیا
خیال رہے کہ الرخمہ کالونی میں واقع جامع مسجد اس سے قبل بھی صہیونی غنڈہ گردوں کی جارحیت کا نشانہ بن چکی ہے۔
