رپورٹ کے مطابق ’’فلسطین الیوم‘‘ کے ڈائریکٹر کو رام اللہ میں بیرزیت کے مقام پر ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا جب کہ دو صحافیوں کو ٹی وی چینل کے ہیڈ کواٹر سے گرفتار کیاگیا ہے۔
مقامی فلسطینی ذرائع کے مطابق جمعہ کو علی الصباح اسرائیلی فوج کی کئی گاڑیاں جنہیں بھاری میشنری، کرینوں اور ٹرالروں کی مدد حاصل تھی نے البیرہ شہر میں القدس بنک پلازے میں موجود ’’فلسطین الیوم‘‘ کے ہیڈ کواٹر اور ٹرانس میڈیا کمپنی کے صدر دفتر پردھاوا بول دیا۔ صہیونی فوج نے دفاترمیں گھس کرنہ صرف توڑپھوڑ کی بلکہ قیمتی سامان قبضے میں لے بعد دفترکو تالے لگا کربند کردیا۔
اس کارروائی کے دوران فلسطینی فوٹو گرافر اور صحافی محمد عمرو جب کہ ٹی وی کے ٹیکنیکل انجینیر شبیب شبیب کو حراست میں لے لیا۔
خیال رہے کہ فلسطین الیوم کے مرکز صہیونی فوج کی جانب سے ایک ایسے وقت میں حملہ کیا گیا ہے جب حال ہی میں اسرائیلی کابینہ نے فلسطینی تحریک انتفاضہ کی حمایت کرنے والے فلسطینی نشریات اور اشاعتی اداروں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ اقدام اسی فیصلے پرعمل درآمد کا حصہ ہے۔
دوسری جانب فلسطین جرنلسٹ یونین نے فلسطین الیوم کے دفترپر اسرائیلی فوج کے چھاپے اور ہیڈکواٹر کی بندش کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ یونین کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطین الیوم پرپابندی فلسطین میں آزادی اظہار پرحملہ ہے۔ صہیونی دشمن کی جانب سے یہ کارروائی پہلی بارنہیں کی گئی بلکہ آئے روز فلسطینی ابلاغی ادارے اسرائیلی فوج کی جارحیت کا سامنا کررہے ہیں مگر اس طرح کے حربوں سے صہیونی مظالم کو دبایا نہیں جاسکتا ہے۔
