رپورٹ کے مطابق بھوک ہڑتالی صحافی محمد القیق کے وکیل اشرف ابو سنینہ نے بیت المقدس میں اسرائیلی سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی عدالت نے ان کی جانب سے القیق کی رہائی اور انتظامی حراست کی سزا فوری طورپر ختم کرنے کی درخواست مسترد کردی ہے۔ انہوں نے اسرائیلی سپریم کورٹ کے فیصلےکو عجیب اور غیر واضح قرار دیا۔
ابو سنینہ نے بتایا کہ اسرائیلی عدالت کی جانب سے جاری کردہ فیصلے میں کہا گیاہے کہ محمد القیق کی فوری رہائی نہ کرانے کا فیصلہ ان کی طبی حالت کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ محمد القیق کی تشویشناک طبی حالت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ اسے فوری طورپر رہا کردیا جائے بلکہ اس کا طبی معائنہ کرنے کے بعد درخواست کا جائزہ لیا جائے گا۔
فلسطینی قانون دان کا کہنا تھا کہ صہیونی عدالت نے اسی طرح کا حربہ ایک دوسرے فلسطینی قیدی محمد علان کے کیس کے بارے میں بھی اختیار کیا تھا جب علان کی بھوک ہڑتال اپنے عروج پرتھی تو عدالت نے ان کی فوری رہائی کے بجائے معاملہ لٹکا دیا تھا۔
بھوک ہڑتالی صحافی کے دوسرے وکیل جواد بولس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی سپریم کورٹ ان کے موکل کے حوالےسے مرحلہ وار فیصلہ صادر کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ وہ القیق کی فوری رہائی کا حکم جاری کرے تاکہ اس کی بھوک ہڑتال ختم کرکے اس کی زندگی بچائی جا سکے۔
خیال رہے کہ محمد القیق کو اسرائیلی فوج نے پچھلے سال نومبر میں حراست میں لیا اورانہیں بغیر کسی الزام کے انتظامی حراست کی سزا سنا دی گئی تھی۔ وہ انتظامی حراست کی سزا کے خلاف 65 دنوں سے مسلسل بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔
