ان دنوں فلسطین میں ’’یوم نکبہ‘‘ یعنی قیام اسرائیل کے وقت کے مظالم کی یاد تازہ کی جا رہی ہے۔ یہ اگرچہ 67 برس پہلے کے واقعات ہیں لیکن تاریخ انہیں تا قیامت فراموش نہیں کرے گی۔ نہتے فلسطینیوں کے خلاف مسلح صہیونی جتھوں کے اندوہ ناک مظالم تاریخ میں ہمیشہ تازہ زخم کی طرح یاد رکھے جائیں گے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیموں نے ’’یوم نکبہ‘‘ یعنی سنہ 1948 ء میں صہیونی ریاست کےقیام کے بعد سے سنہ 1967 ء کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ اور اس کے بعد سے آج کے دن تک کوئی دن ایسا نہیں گذرا جس میں یہودی دہشت گردوں نے نہتے فلسطینیوں کا قتل عام نہ کیا ہو۔
انسانی حقوق کے اداروں کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 1948 ء کو اسرائیل کے قیام کے وقت جہاں بڑی تعداد میں فلسطینیوں اور عرب شہریوں کو بھاری ہتھیاروں، ٹینکوں اور توپوں کا نشانہ بنا کرتہہ تیغ کردیا گیا وہیں ہزاروں کی تعداد میں گرفتار کیےگئے زخمیوں اور غیر زخمی فلسطینیوں کو اجتماعی قبروں میں زندہ درگور کیا گیا۔
فلسطینی انسانی حقوق کے مندوب ناصر فروانہ نے فلسطینیوں کے خلاف صہیونی درندوں کے ان دلخراش واقعات پر مبنی ایک رپورٹ تیار کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 1948 ء میں قیام اسرائیل کے وقت فلسطین کی کوئی بستی اور کوئی کنبہ ایسا نہ تھا جس میں فلسطینیوں کا اجتماعی قتل نہ کیا گیا۔ ہزاروں کی تعداد میں خواتیں،بچوں، بوڑھوں اور جوانوں کو یرغمال بنایا گیا جہاں ان میں سے بعض کو نہایت بےرحمی کے ساتھ ہولناک تشدد کرکے شہید کردیا گیا اور سیکڑوں فلسطینیوں کو زندہ اجتماعی قبروں میں دفن کیا گیا ہے۔
عبدالناصر فروانہ کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں پر منظم مظالم کا تماشا انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور بین الاقوامی برادری کے سامنے ہوتا رہا ہے لیکن صہیونیوں کی اس منظم درندگی اور بربریت کی مذمت کی توفیق بھی کم ہی کسی کو ہوئی ہے۔
انسانی حقوق کے مندوب کا کہنا ہے کہ سنہ 1948 ء کی جنگ اور اس کے بعد کے دلخراش واقعات کو بیان کرنا بھی مشکل ہے کیونکہ فلسطینی جن ہولناک مظالم سے گذرے ہیں ان کے لیے’خطرناک‘ اور ’سنگین‘ جیسے الفاظ بھی بے معنی ہوجاتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ چونکہ قیام اسرائیل کے وقت اس کے بعد آج تک عالمی ذرائع ابلاغ صرف صہیونیوں کے طرف دار رہےہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک فلسطینی قوم پرڈھائے جانے والے مظالم کو عالمی سطح پر بے نقاب نہیں کیا جاسکا ہے۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ صہیونیوں نے یرغمال بنائے گئے سیکڑوں اور ہزاروں افراد کو اجتماعی قبروں میں زندہ دفن کردیا تھا۔ زندہ دفن کیے جانے والوں میں عورتیں، بچے اور حملوں میں زخمی ہونے والے شہری بھی شامل تھے۔
انسانی حقوق کے مندوب کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کو زندہ درگور کیے جانے کے واقعات نہ صرف سنہ 1948 ء کے وقت دیکھے گئے بلکہ اسی طرح کی وحشت اور بربریت سنہ 1967 ء کی جنگ میں بھی برتی گئی۔ لیکن عالمی سطح پر آج تک ایسا کوئی تحقیقاتی کمیشن نہیں بنا جو اس بات کی چھان بین کرتا کہ آیا صہیونی فوجیوں اور یہودی غنڈہ گردوں نے کب اور کہاں کہاں فلسطینیوں کو زندہ دفن کیا ہے۔
انہوں نے عالمی اداروں اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ صہیونی ریاست کے منظم جرائم اور نہتے فلسطینیوں کو زندہ درگور کیے جانے جیسے بربریت پرمبنی دہشت گردانہ واقعات کی آزادانہ اور منصفانہ تحقیقات کرائے اور فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم کے مرتکب صہیونیوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں مدد کرے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
