اسرائیل کے عبرانی ٹی وی 10 نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ملٹری انٹیلی جنس کی یونٹ 8200 کے اہلکاروں نے مبینہ طور پر اعتراف کیا ہے کہ خفیہ اداروں کے اہلکار گرین لائن کی حدود کے اندر اسپتالوں میں علاج کے لیے داخل ہونے والے فلسطینی مریضوں اور ان کے ساتھ آنے والے شہریوں کو فلسطینی مزاحمت کاروں کی جاسوسی کے لیے بلیک میل کرتے رہے ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی فوجی انٹیلیجنس کے ایک سینیر عہدیدار نے اعتراف کیا ہے کہ وہ اسپتالوں میں علاج کی غرض سے آنے والے فلسطینیوں سے کہتے کہ وہ موت اور موساد کے لیے جاسوسی میں سے کوئی ایک راستہ اختیار کرلیں۔
اسرائیلی انٹیلیجنس افسر نے ٹی وی کو بتایا کہ کئی ایسے امراض ہیں جن کا علاج فلسطینی اتھارٹی کے زیرانتظام علاقوں یا غزہ کی پٹی کے اسپتالوں میں ممکن نہیں۔ فلسطینیوں کے پاس ان بیماریوں کے علاج کے لیے اسرائیل کے اسپتالوں میں داخلے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں بچا ہے۔ اس لیے ہم ان کی مجبوری کو سمجھتے تھے اور اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے تاکہ ان کا کام بھی ہو جائے اور ہمیں بھی ایجنٹ مل جائیں۔ فوجی افسر نے تسلیم کیا کہ وہ کئی مریضوں کے پاس جاتے اور انہیں علاج کے بدلے موساد کے لیے جاسوسی پر قائل کرنے کی کوشش کرتے جب وہ تعاون سے انکار کردیتے تو انہیں یہ دھمکی دی جاتی کہ وہ زندہ واپس نہیں جاسکیں گے۔ اس دھمکی کے بعد کئی فلسطینی ہم سے تعاون پر راضی تو ہو جاتے مگر بعد میں واپسی کے بعد ان کا کوئی پتا نہیں چلتا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
