فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت الفتح کی مرکزی قیادت کے رام اللہ میں اسرائیلی حکمراں جماعت "لیکوڈ” کے ساتھ خفیہ مذاکرات کی خبریں منظرعام پرآنے کے بعد عوامی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ فلسطین میں سماجی تنظیموں، سیاسی شخصیات اور عوامی گروپوں کی جانب سے صہیونیوں سے خفیہ مذاکرات کا ناٹک رچانے والے فتحاوی لیڈروں کے عدالتی ٹرائل کا مطالبہ کیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطین میں صہیونی حکومت اور ریاست کے ساتھ ہرسطح پر بائیکاٹ کے لیے سرگرم تنظیم نے الفتح کے صہیونی حکمراں جماعت کے ساتھ خفیہ بات چیت کی شدید مذمت کی ہے۔
تنظیم کے ایک مرکزی عہدیدار زید الشعیبی نے خبر رساں ایجنسی”قدس پریس” سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلیوں سے خفیہ مذاکرات کا ڈھونگ قوم کو دھوکہ دینے کی ایک نئی سازش ہے۔ وہ فتح کی ساری قیادت بالخصوص جماعت کی سینٹرل کمیٹی کے سیکرٹری جنرل یاسرعبد ربہ کے استعفے کا مطالبہ اور اسرائیل سے مذاکرات کرنے والے لیڈروں کے عدالتی ٹرائل کا مطالبہ کرتے ہیں۔
صہیونی بائیکاٹ کے لیے سرگرم تنظیم کے عہدیدار نے کہا کہ عوام فتح کی محب وطن قیادت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ صہیونی دشمنوں اور جرائم پیشہ یہودیوں کے ساتھ بات چیت کا ڈھونگ رچانے والوں کا کڑا احتساب کریں، ان تمام قائدین کی پارٹی رکنیت منسوخ کی جائے جو اسرائیل کے ساتھ کسی بھی شکل میں مذاکرات کےمرتکب رہے ہیں۔
خیال رہے کہ حال ہی میں یہ خبریں آئی تھیں کہ اسرائیل کی حکمراں جماعت "لیکوڈ” کے کئی اہم عہدیداروں نے رام اللہ میں صدر محمود عباس کی جماعت الفتح سے خفیہ مذاکرات کیے تھے۔ ان مذاکرات میں امریکی مساعی سے فلسطین۔ اسرائیل امن مذاکرات کی بحالی کے طریقہ کار پرغور کیا گیا۔
اسرائیلی حکمراں جماعت کے ساتھ الفتح کے خفیہ مذاکرات پر فلسطین کی سرکردہ مذہبی سیاسی جماعتوں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” اور اسلامی جہاد نے بھی شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے صہیونی دشمن کی حمایت قرار دیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
