اسرائیل کی ایک مجسٹریٹ عدالت نے بزرگ فلسطینی اسلام پسند رہ نما الشیخ رائد صلاح کی تین ماہ سے بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ میں داخلے پرعائد پابندی میں توسیع کردی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق بدھ کے روز بیت المقدس میں صہیونی عدالت نے پولیس کی جانب سے داخل کرائی گئی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے شیخ رائد صلاح کو 25 دسمبر2013ء تک قبلہ اول میں داخلے سے روک دیا۔ انہیں دو ماہ قبل بیت المقدس سے بے دخل کردیا گیا۔ اسرائیلی عدالت کے پہلے فیصلے میں شیخ رائد صلاح کودو ماہ کے لیے بیت المقدس میں داخلے سے روکا گیا تھا۔ یکم دسمبرکو ان کی بے دخلی کی مدت مکمل ہوگئی تھی۔ صہیونی عدالت نے قابض اسرائیلی فوج کی ہدایت پرشیخ رائد صلاح کو مزید دس دن قبلہ اول اور بیت المقدس میں داخلے سے روک دیا تھا۔ یہ دس دن کی مدت گذشتہ روز بدھ کو ختم ہوگئی تھی، جسے مزید پندرہ دن بڑھا دیا گیا ہے۔
فلسطین میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم "میزان” کے مندوب اور شیخ رائد صلاح کے قانونی مشیر ایڈووکیٹ محمد سلیمان اغباریہ کا کہنا ہے کہ شیخ رائد صلاح کو پچھلے تین میں چوتھی مرتبہ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ میں داخلے سے روکا گیا ہے۔
سلیمان اغباریہ کا کہنا تھا کہ بدھ کے روز شیخ رائد صلاح کی بیت المقدس داخلے پرعائد تیسری پابندی ختم ہونا تھی لیکن صہیونی پولیس نے عدالت سے اس پابندی میں مزید دو ہفتے کی توسیع کی درخواست دی، جسے فوری طور پر منظور کرلیا گیا۔
