(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) صہیونی فوج کی دہشت گردی کے نتیجے میں شہید ہونے والے فلسطینی نوجوان نشات ملحم کو کل بدھ کے روز اس کے آبائی شہر عرعرہ میں سپرد خاک کردیا گیا۔ اس کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
رپورٹر نے مقامی فلسطینی میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ شہید نشات ملحم کا جسد خاکی دو روز قبل اور صہیونی فوجیوں نے اس کے ورثاء کے حوالے کیا تھا اور صہیونی فوجیوں کی جانب سے شہید کے نماز جنازہ اور تدفین کے لیے کڑی شرائط رکھی گئی تھیں۔ اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے شہید کے اہل خانہ سے کہا گیا تھا کہ وہ نماز جنازہ میں صرف چند درجن افراد کو شریک کریں تاہم اس کے باوجود ہزاروں افراد نے شہید کی میت کو کندھا دیا۔خیال رہے کہ نشات ملحم نامی فلسطینی نوجوان پر اسرائیلی فوج نے الزام عائد کیا تھا کہ اس نے یکم جنوری کو اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں ایک نائیٹ کلب پر فائرنگ کرکے تین یہودی ہلاک اور 10 زخمی کردیے تھے۔ نشات اس کارروائی کے بعد فرار میں کامیاب ہوگیا تھا تاہم کئی روز کی مسلسل تلاش کے بعد صہیونی فوجیوں نے اسے مقبوضہ فلسطین کےسنہ 1948 ء کے علاقے میں ڈھونڈنے کے بعد گولیاں مار کر شہیدکردیا تھا۔
گذشتہ روز شہید کی نماز جنازہ کے موقع پر اسرائیلی فوج کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے تھے۔ اسرائیلی پولیس شہریوں کو شہید کی نماز جنازہ میں شرکت سے روکنے کی بھی کوشش کرتی رہی مگر دشمن کی کوششوں کے علی الرغم نماز جنازہ میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔
