مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق براء عیاش کی گرفتاری اس کے والد کی شہادت کی 19 ویں برسی سے ایک روز قبل عمل میں لائی گئی ہے جس کا مقصد یحییٰ عیاش کی شہادت کے موقع پر ان کے خاندان کو برسی کی سرگرمی سے روکنا ہے۔
براء عیاش کے اہل خانہ کے ایک ذریعے نے بتایا کہ براہ کی گرفتاری نابلس میں جبل الطور کے مقام سے عمل میں لائی گئی۔ اس کے بعد نوجوان کی والدہ ام براء عیاش نے متعدد مرتبہ فلسطینی انٹیلی جنس اداروں اور پولیس سے رابطے کی کوشش کی تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کی براء کو کیوں کر حراست میں لیا گیا ہے تاہم انہیں کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ عباس ملیشیا کی طرف سے ام عیاش سے کہا گیاہے کہ وہ آج پیر یا کل منگل کو رابطہ کرے۔ فی الحال براء کو تفتیش کے لیے ایک حراستی مرکز منتقل کردیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ جمعرات کو عباس ملیشیا کے اہلکاروں نے عیاش خاندان کو براء کی گرفتاری کے نوٹس جاری کرتے ہوئے اسے فوری طورپر خود کو حکام کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔ براء کی گرفتاری ایک ایسے وقت میں عمل میں لائی گئی ہے جب آج پانچ جنوری کو اس کے والد انجینیئر یحییٰ عیاش کی شہادت کی برسی منائی جا رہی ہے۔ انہیں سنہ 05 جنوری 1996 ء کو صہیونی فوج نے شہید کردیا تھا۔
عیاش کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ براء کی گرفتاری کے لیے اب تک پانچ بار نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔ اسے گذشتہ برس بھی حراست میں لیا گیا تھا تاہم وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آیا عباس ملیشیا براء کو باربار کیوں گرفتار کرنا چاہتی ہے۔ اس سے کسی کو کیا خطرہ لاحق ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
