فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں منگل کے روز صہیونی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں شہید ہونے والے نوجوان کو سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ انیس سالہ معتز ادریس الشراونہ کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور اسے قومی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔
خیال رہے کہ ادریس شراونہ کو منگل کے روز صہیونی فوج نے پہلے فائرنگ کا نشانہ بنایا، پھر فوجی گاڑی کے نتیجے کچل کرشہید کر دیا تھا۔ صہیونی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ شراونہ نے ان پرحملے کی کوشش کی تاہم قابض فوج کا یہ الزام غلط ثابت ہوا ہے کیونکہ شراونہ کے قبضے سے کوئی خطرناک ہتھیار برآمد نہیں ہوا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ادریس شراونہ کی شہادت کی خبر پورے الخلیل میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلی اور لوگ اپنی تمام مصروفیات ترک کرکے "دورا” کے مقام پر شراونہ کے اہل خانہ سے تعزیت اور شہید کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے پہنچے۔ بعد ازاں مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بجے شہید کی نماز جنازہ دورا میں جامع مسجد الکبیر کے گراؤنڈ میں ادا کی گئی۔ نماز جنازہ میں ہزاروں افراد شریک تھے۔ شرکاء میں سے بڑی تعداد نے شہید کی تصاویر اور فلسطینی قومی پرچم بھی اٹھا رکھے تھے۔ تدفین سے قبل اور اس کے بعد دیر تک شہری صہیونی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف مسلسل نعرے لگاتے رہے۔
دورا میں مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ شہرمیں شہید کےاہل خانہ سے تعزیت کے لیے آنے والوں کی خاطر ایک تعزیتی کیمپ لگایا گیا ہے جس میں شہید کی تصاویر بھی آویزاں ہیں۔ ادھر الخلیل کے ایک سرکاری اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ولید عبدالغفار زلوم کا کہنا ہے کہ انہوں نے شہید ادریس شراونہ کی میت کا معائنہ کیا۔ انہیں پہلے گولیاں ماری گئی ہیں، شدید زخمی حالت میں ان پر فوجی جیپ چڑھا دی گئی، جس کے نتیجے میں ان کے جسم کے بیشتر اعضاء ٹوٹ چکے تھے۔ ایک گولی ان کے کندھے میں لگ کر پیٹ میں اترگئی تھی اور وہی ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ صہیونی فوجی جیپ کے نیچے کچلنے کے باعث شراونہ موقع پرہی دم توڑ گئے تھے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
