نو سال بیت گئے، مگر فلسطینیوں کے ذہنوں سے ہفتے کی وہ رات آج بھی ذہنوں سے محو نہیں ہوئی۔ سترہ اپریل 2004ء کی یہ رات دیگر راتوں سے بالکل مختلف تھی جس میں اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے شیر فلسطین معروف مجاہد عبد العزیز رنتیسی کو شہید کرنے میں کامیابی حاصل کرلی تھی۔
قربانی، جودوسخا اور اللہ کے راستے میں اپنے پاکیزہ خون کا نذرانہ پیش کرنے والے فلسطینی کمانڈر رنتیسی کو ہم سے جدا ہوئے طویل عرصہ گزر گیا مگر ان کی یادیں اسی طرح زندہ ہیں، ان کی شہادت کو نوسال گزر گئے مگر مغربی کنارے آج بھی اسرائیلی جارحیتوں کی زد میں ہے۔ جرأت و عظمت کے نشان فلسطینی رہنما کی شہادت کا تذکرہ بلاشبہ فلسطینیوں میں ایک تحریک پیدا کردیتا ہے اور ان میں مغربی کنارے کی آزادی کی امیدیں تازہ ہوجاتی ہیں۔
فلسطین کے عظیم رہنماؤں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عبد العزیز رنتیسی نے اپنی جان کا نذرانہ قبلہ اول اور فلسطین کی آزادی کے لیے پیش کردیا۔ ان کی نویں برسی کے موقع پر رکن پارلیمان منی منصور نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جانے والے میں ایسی صلاحیتیں تھیں جو عوام اور ان کے رہنماؤں میں کم کم ہوتی ہیں۔ شہید رنتیسی نے اسرائیل کے ایوانوں میں زلزلہ پیدا کردیا اور اپنے بعد کی نسلوں کے لیے جہاد سے محبت کا سبق چھوڑ گئے۔ ان کے دیے گئے جہاد کے سبق کر چل ہی فلسطین کی آزادی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ ادھر نجاح یونیورسٹی کی طالبہ سجی محمود کا کہنا تھا کہ رنتیسی کی یاد میں، میں اتنا کہوں گی کہ ہر کسی نے دنیا سے چلے جانا ہے، رنتیسی میں جو صلاحیتیں تھیں وہ لوگوں اور ان کی قیامت میں کم کم ہی ملتی ہیں۔ وہ اسرائیل کے ایوانوں میں کھلبلی مچا دینے والی شخصیت تھے۔ انہوں نے اپنے بعد اپنے چاہنے والوں کے لیے جہاد سے محبت اور مزاحمت کے نئے اسباق چھوڑے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ رنتیسی عظمیت سے زندہ رہا اور پوری عظمت کے ساتھ فوت ہوگیا۔ وہ اس طریقے سے فوت وئے جس کی ہر کوئی تمنا کرتا ہے۔ اللہ نے ان کی شہادت کی خواہش کو پورا کردیا، پس وہ ایک عظیم الشان اور اقتدار والے بادشاہ کے پاس اپنا ٹھکانہ بنا کر سرخرو ہوگئے ہیں۔
عبد العزیز رنتیسی کی شہادت کو نو سال بیت جانے کے اس موقع پر بیر زیت یونیورسٹی کے طالب علم معزوز عبد اللہ کا کہنا تھا کہ ہم ان کے یہ الفاظ کبھی نہیں بھول سکتے جب وہ ہزاروں افراد اور ساری دنیا کے کیمروں کے سامنے کلاشنکوف لہرا کر کہتے تھے، یہی راستہ ہے، یہی اصل راہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج مغربی کنارے میں بعض مساجد، یونیورسٹیوں میں تو رنتیسی کی تصاویر آویزاں ہیں ہی، ہر دوسرے گھر میں شہید رنتیسی سے محبت کے نمونے دیکھے جا سکتے ہیں۔
نجاح یونیورسٹی کے ایک طالب علم ناصر عبد الحق نے کہا کہ ان کی شہادت کی یاد ایک مرتبہ پھر ہمتوں کو نئے سرے سے قائم اور امیدوں کو وابستہ کر رہیہے۔ وہ صرف ایک رہنما ہی نہیں بلکہ نسلوں کو متاثر کرنے والی شخصیت تھے۔
ان کی نویں برسی کی مناسبت سے سماجی روابط کی ویب سائٹس پر ان کے اقوام اور عبارتیں بھی نشر کی جا رہی ہیں جن میں ان کا سب سے مشہور قول یہ ہے ’’موت لامحالہ آنی ہے چاہے اپاچی (جنگی ہیلی کاپٹر) سے آئے، کینسر سے یا کسی دوسری وجہ سے، لیکن افضل موت اپاچی کے ذریعے ہی ہے‘‘
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
